نظم

کرونا وائرس : ذوالفقاراحسن

  گھروں میں مقفل ہو جانا پڑے گا کرونا کو یونہی بھگانا پڑے گا ہمیں اِس سے لڑنا ہے ڈرنا نہیں ہے یہ اوروں کو احسن بتانا پڑے گا ستم جو بھی ہیں وہ سہیں فاصلے پر ہے جو کچھ بھی کہنا، کہیں فاصلے پر دلوں سے مٹائیں مگر فاصلوں کو عزیزوں سے لیکن رہیں […]

افسانہ

مقابلہ : فیصل اکرم

وہ وینٹی لیٹر پر سانسوں کی تسبیح کرنے میں مصروف تھی ۔ مشتعل دھڑکن سینے میں دھمال ڈالتے ڈالتے تھک چکی تھی ۔ نبض گہرے پانیوں میں اپنا ہاتھ ہلاتے ہلاتے ڈوب رہی تھی ۔ کرونا سے زیادہ بڑا دشمن قرنطینہ اپنے خون آلود ناخن بردار پنجوں سے اسے نوچ رہا تھا۔ بچوں سے دوری […]

نظم

آرزوِ آوارگی : فیض محمد صاحب

کئی دنوں سےہوا دھواں ڈھونڈ رہی ہے دور دور تک شہر کی گلیاں سناٹے سے خوف زدہ ہیں کُتے، بلیاں اور پرندے ساختہ منزلوں کے سوراخوں میں جھانک کر بھاگ جاتے ہیں سفید پوش لوگ گھروں میں اطفال کو دلاسے دے رہے ہیں اُکتائی ہوئی بے ہنگم دوڑ سے بچھڑی ہوئی ہوس خود کے بارے […]

نظم

وبا کے دن : آصف خان

تحریر کر رہا ہوں وبا کے دِنوں کا حال لیکن قلم اُداس ہے، الفاظ پُر ملال سَن دو ہزار بیس کے تھے اِبتدائی دِن مہمان بن کے آیا "کورونا” بُلائے بِن پہلے پہل تباہ کِیا اُس نے چائنہ پھر اس کے بعد رخ کیا سوئے "اطالیہ” پھر ہِند بچ سکا نہ ہی یورپ، اَمیرکا لاشیں […]

نظم

نئے عہد کی بنیاد : یوسف خالد

اشہب وقت ذرا دیر کو رک مجھ کو یہ گیند تھما میں اسے الٹا گھما کر دیکھوں کیسے دریا میں ہوا غرق وہ لشکر جس کو اپنا سردار جہاں بھر کا خدا لگتا تھا زعم کتنا تھا اسے مالکِ کل ہونے کا کس قدر اس کو بھروسہ تھا کہ اس کی قوت کرہ ء، ارض […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

کبھی جو اس کو مری اور آنا ہوتا ہے بہت ہی پیار سے رستہ سجانا ہوتا ہے اگرچہ دل نہیں مانا، منانا ہوتا ہے کسی طرح کا ہو وعدہ نبھانا ہوتا ہے کوئی پرندہ کبھی بھی کہیں نہیں جاتا شجر کو گیت ہوا کا سنانا ہوتا ہے کوئی بھی رنگ نہیں ہوتا اس محبت کا […]

تنقید

فہیم کا تفہم اور شعری استحسان : خاورچودھری

[۱] فہیم سے میرا تعلق ربع صدی پر پھیلا ہوا ہے؛ یہ کوئی معمولی مسافت نہیں۔ ایک مکمل زندگی ہے۔ میں نے اُسے نوجوانی سے جوانی میں داخل ہوتے دیکھا اور پھر جوانی سے ادھیڑ پن کا مرحلہ بھی میری نگاہوں میں ہے۔ ہم نے اَدبی سفر کم وبیش ایک ہی وقت میں شروع کیا۔ […]

نظم

کرونا وائرس کرفیو : ڈاکٹرستیہ پال آنند

—————————- گھروں میں ہی دبکے رہو رات دن، میرے بھائیو کہ باہر ہوا کا سراپا کسی خوف کی بھاری زنجیر سے خود کو باندھے ہوئے لڑکھڑانے لگا ہے دبک جاؤ اپنے مکانوں کی اندھی اندھیری گپھا میں کہ شام اب پچھل پیریوں کی طرح خون کی پیاس سے چھٹپٹانے لگی ہے سیہ رات کا کالا […]

نظم

نہ ابتدا ہے نہ کوئی انجام آج کل : سعید عباس سعید

نہ ابتدا ہے نہ کوئی انجام آج کل دن سارے ہوگئے ہیں بے نام آج کل انسان ڈر رہا ہے انساں کے ساتھ سے پھیلا ہوا ہے خوف سا ہرگام آج کل فردا کا خوف ہے کبھی ماضی کے تذکرے بے حال ہے ہماری ہر شام آج کل بڑی تلخ ہو گئی ہے دنیائے حقائق […]

نظم

کھلونے دیکھ کر : فیض محمد صاحب

ٹیبل پہ سجے کھلونے فرصت میں جمی آنکھیں ان میں ماضی کے وہ سب منظر خود کو دھرا رہے ہیں کافی دنوں سے جسم اک کمرے میں بند ہو کر سب پرانے دوستوں کے نقش تلاش کر رہا ہے شاید ان دنوں میں میرے دوست بھی زندگی کی دوڑ سے تھک ہار کے سستا رہے […]