نظم

وبا کے دن : آصف خان

تحریر کر رہا ہوں وبا کے دِنوں کا حال لیکن قلم اُداس ہے، الفاظ پُر ملال سَن دو ہزار بیس کے تھے اِبتدائی دِن مہمان بن کے آیا "کورونا” بُلائے بِن پہلے پہل تباہ کِیا اُس نے چائنہ پھر اس کے بعد رخ کیا سوئے "اطالیہ” پھر ہِند بچ سکا نہ ہی یورپ، اَمیرکا لاشیں […]

نظم

نئے عہد کی بنیاد : یوسف خالد

اشہب وقت ذرا دیر کو رک مجھ کو یہ گیند تھما میں اسے الٹا گھما کر دیکھوں کیسے دریا میں ہوا غرق وہ لشکر جس کو اپنا سردار جہاں بھر کا خدا لگتا تھا زعم کتنا تھا اسے مالکِ کل ہونے کا کس قدر اس کو بھروسہ تھا کہ اس کی قوت کرہ ء، ارض […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

کبھی جو اس کو مری اور آنا ہوتا ہے بہت ہی پیار سے رستہ سجانا ہوتا ہے اگرچہ دل نہیں مانا، منانا ہوتا ہے کسی طرح کا ہو وعدہ نبھانا ہوتا ہے کوئی پرندہ کبھی بھی کہیں نہیں جاتا شجر کو گیت ہوا کا سنانا ہوتا ہے کوئی بھی رنگ نہیں ہوتا اس محبت کا […]

تنقید

فہیم کا تفہم اور شعری استحسان : خاورچودھری

[۱] فہیم سے میرا تعلق ربع صدی پر پھیلا ہوا ہے؛ یہ کوئی معمولی مسافت نہیں۔ ایک مکمل زندگی ہے۔ میں نے اُسے نوجوانی سے جوانی میں داخل ہوتے دیکھا اور پھر جوانی سے ادھیڑ پن کا مرحلہ بھی میری نگاہوں میں ہے۔ ہم نے اَدبی سفر کم وبیش ایک ہی وقت میں شروع کیا۔ […]

نظم

کرونا وائرس کرفیو : ڈاکٹرستیہ پال آنند

—————————- گھروں میں ہی دبکے رہو رات دن، میرے بھائیو کہ باہر ہوا کا سراپا کسی خوف کی بھاری زنجیر سے خود کو باندھے ہوئے لڑکھڑانے لگا ہے دبک جاؤ اپنے مکانوں کی اندھی اندھیری گپھا میں کہ شام اب پچھل پیریوں کی طرح خون کی پیاس سے چھٹپٹانے لگی ہے سیہ رات کا کالا […]

نظم

نہ ابتدا ہے نہ کوئی انجام آج کل : سعید عباس سعید

نہ ابتدا ہے نہ کوئی انجام آج کل دن سارے ہوگئے ہیں بے نام آج کل انسان ڈر رہا ہے انساں کے ساتھ سے پھیلا ہوا ہے خوف سا ہرگام آج کل فردا کا خوف ہے کبھی ماضی کے تذکرے بے حال ہے ہماری ہر شام آج کل بڑی تلخ ہو گئی ہے دنیائے حقائق […]

نظم

کھلونے دیکھ کر : فیض محمد صاحب

ٹیبل پہ سجے کھلونے فرصت میں جمی آنکھیں ان میں ماضی کے وہ سب منظر خود کو دھرا رہے ہیں کافی دنوں سے جسم اک کمرے میں بند ہو کر سب پرانے دوستوں کے نقش تلاش کر رہا ہے شاید ان دنوں میں میرے دوست بھی زندگی کی دوڑ سے تھک ہار کے سستا رہے […]

نظم

اگر وبا ہے : یاسر عباس فراز

ہماری دھرتی کو کیا ہوا ہے نہ اس کی سڑکوں پہ گاڑیاں ہیں نہ اس کے بازار کھل رہے ہیں یہ ریل گاڑی سکول کالج کا شور سنگیوں کا جھرمٹ یہ کیا ہوا ہے کہ ماہِ شعبان دس محرم بنا ہوا ہے نہ محفلِ شاد شادیوں میں نہ کوئی مسجد کھلی ہوئی ہے مشاعرے، شادیاں […]

نظم

وعدہ تھا جن کا ساتھ نبھانے کا تاحیات : سعید عباس سعید

وعدہ تھا جن کا ساتھ نبھانے کا تاحیات اب مل رہے ہیں یوں کہ ملاتے نہیں ہیں ہات کاغذ قلم ہے اور میرا کمرہ ہے دوستو مجھ کو خبر نہیں ہے دن ہے یا پھر ہے رات بس کچھ دنوں کی بات ہے بدلیں گے روزوشب ہر دن بنے گا عید سا،ہر شب شب برات […]

نظم

بے بس ہیں یا مُجیر! ہر اک ابتلا کو ٹال : نویدملک

اے ربِ کائنات! ہے گردش رُکی ہوئی سب نے بدن پہ اوڑھ لی دنیا بجھی ہوئی ۔ اب ہر چراغ لو کو ترستا ہے صبح و شام اب ہر نگہ میں نور کا ہوتا ہے انہدام ۔ دنیا کا گوشہ گوشہ پریشاں دکھائی دے ہر ذہن ابتلاؤں میں ویراں دکھائی دے ۔ نیندوں میں کوئی […]