غزل : نوید صادق

قصر جلا  دیے گئے  ، تخت  گرا دیے گئے اور جو مانتے نہ تھے، رہ سے ہٹا دیے گئے عہد غلط نہ تھا مگر، عہد کے لوگ تھے…

غزل : خالد علیم

ترے لیے کبھی وحشت گزیدہ ہم ہی نہ تھے وہ دشت بھی تھا، گریباں دریدہ ہم ہی نہ تھے لُٹے پٹے ہوئے اُن راستوں  سے  آتے…

نعت : مقصودعلی شاہ

درود  پڑھ کر اُجال  لیں گے  جواب  سارے اِس ایک تدبیر سے جُڑے ہیں حساب سارے بس ایک شاخِ گلِ ثنا کی طلب تھی مہکی…

دعا : سعیداشعر

مولا! اب دکھ میرے بس سے باہر ہے دم گھٹتا ہے انکھوں کا پانی بے وقعت ہے میرے فریادی لفظوں کو شاید سیدھا رستہ…