غزل : سیدکامی شاہ

جو مجھ پہ چھائی ہوئی کاسنی اُداسی ہے مِرے  عزیز ، مِری  دائمی  اُداسی   ہے نیا ہے کون بھلا اِس خراب خانے میں…

“نظم” : فیض محمد صاحب

سنو تمہیں اک نظم سنانی ہے کہ جس کا حرف حرف میں نے اپنی دھڑکنوں سے چُنا ہے سُنو تمہیں اپنی آنکھیں دکھانی ہیں…

غزل : ناصر علی سید

ایک انہونی کا ڈر ہے   اور میں دشت کا اندھا سفر ہے اور میں حسرتِ تعمیر پوری یوں ہوئی حسرتوں کا اک نگر ہے اور میں…