بے بس ہیں یا مُجیر! ہر اک ابتلا کو ٹال : نویدملک
اے ربِ کائنات! ہے گردش رُکی ہوئی سب نے بدن پہ اوڑھ لی دنیا بجھی ہوئی ۔ اب ہر چراغ لو کو ترستا ہے صبح و شام اب ہر نگہ میں نور کا ہوتا ہے انہدام ۔ دنیا کا گوشہ گوشہ پریشاں دکھائی دے ہر ذہن ابتلاؤں میں ویراں دکھائی دے ۔ نیندوں میں کوئی […]








