Browsing Category

غزل

غزل : ع۔ع۔عالم

دعا تو  کرتا ہوں پر ، بد دعا  نہیں کرتا میں زندگی کو کبھی بھی خفا نہیں کرتا خموش رہنے لگا ہوں ،صدا نہیں کرتا…

غزل : ناصر علی سید

شبِ فراق خیالِ وصال کم کم ہے یہ اور بات طبیعت بحال کم کم ہے جو ایک رسم  چلی تھی مزاج پُرسی کی…

غزل : خالد شریف

رخصت ہوا  تو  بات  مری  مان  کر  گیا جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک…

غزل : ڈاکٹرشاکر حسین

کچھ ہیں رشتے مگر ادھورے ہیں اِن امیروں کے گھر ادھورے ہیں تم میرے ساتھ جب نہیں ہوتے خوشبوؤں کے سفر ادھورے ہیں کس…

غزل : نوید صادق

قصر جلا  دیے گئے  ، تخت  گرا دیے گئے اور جو مانتے نہ تھے، رہ سے ہٹا دیے گئے عہد غلط نہ تھا مگر، عہد کے لوگ تھے…

غزل : خالد علیم

ترے لیے کبھی وحشت گزیدہ ہم ہی نہ تھے وہ دشت بھی تھا، گریباں دریدہ ہم ہی نہ تھے لُٹے پٹے ہوئے اُن راستوں  سے  آتے…

غزل : ازور شیرازی

وبا کے خوف سے جاری ہے کال جینے کا ارادہ پھر بھی رکھو اب کے سال جینے کا میں مانتا ہوں کہ ہر سو ہے موت کا منظر کسی…

غزل : غزالہ شاہین مغل

صرف  کافی نہیں  محبت   بھی چاہئیے اس میں کچھ توشدت بھی جان  لیوا  ہر  ایک  پل  میرا روٹھنا تیرا  اور  الفت  بھی…

غزل : اعظم شاہد

کبھی مقتل کومیں سوچوں کبھی زنداں دیکھوں جانے والے کے لئے خود کو پریشاں دیکھوں زخم تو زخم ہے بڑھتا ہی…

غزل : سیدکامی شاہ

جو مجھ پہ چھائی ہوئی کاسنی اُداسی ہے مِرے  عزیز ، مِری  دائمی  اُداسی   ہے نیا ہے کون بھلا اِس خراب خانے میں…