رستہ گئے مسافر کا اب دیا جلا کر دیکھ : منیرنیازی
تجھ سے بچھڑ کر کیا ہوں میں اب باہر آ کر دیکھ ہمت ہے تو میری حالت آنکھ ملا کر دیکھ شام ہے گہری تیز ہوا ہے سر پہ کھڑی ہے رات رستہ گئے مسافر کا اب دیا جلا کر دیکھ دروازے کے پاس آ آ کر واپس مڑتی چاپ کون ہے اس سنسان گلی […]






