غزل : عادل حسین
نیند ، گلشن ، قمر ، تمہارے ہیں درد ، صحرا ، گہن ، ہمارے ہیں سچ تو یہ ہے وبا سے پہلے بھی ہم نے ایسے ہی دن گزارے ہیں جال پھینکا تھا چاند کی خاطر پھنس گئےاس میں کچھ ستارے ہیں ہم نے تو کچھ مزاحمت کی تھی آپ تو بن لڑے ہی […]
نیند ، گلشن ، قمر ، تمہارے ہیں درد ، صحرا ، گہن ، ہمارے ہیں سچ تو یہ ہے وبا سے پہلے بھی ہم نے ایسے ہی دن گزارے ہیں جال پھینکا تھا چاند کی خاطر پھنس گئےاس میں کچھ ستارے ہیں ہم نے تو کچھ مزاحمت کی تھی آپ تو بن لڑے ہی […]
اندرونِ شہر زندگی پوری طرح خاموش تھی۔ فصیل بند یہ شہرزمانوں سے آباد اور دو تہذیبوں کا نشان دار تھا۔ مندروں، دھرم شالوں اور دوسہرہ میدانوں کی تمکنت اُسی طرح قائم تھی اورپھرہردوسری گلی میں مسجدوں کے بلند میناروں سے پانچوں وقت ”اللہ اکبر“ کی صدائیں بھی گونجتی تھیں۔ شہر میں کوئی ایک مکان بھی […]
(گزشتہ سے پیوستہ ) اس سے پہلے اس بات پر گفتگو ہوچکی ہے کہ وباکے ماحول میں تخلیق کردہ اردوشعری ادب میں شعرا نے محبوب سے شکوے کی جگہ احتیاط اور خوف میں لپٹے فراق کی کیفیات کو اشعار میں ڈھالا ہے- یوں انسانی مسائل اور جذبوں کے بیانیے کے لیے ایک نئے پیٹرن کی […]
یہ میرے دادا ہیں پیار سے میں ان کو دادو کہتی تھی یہ میرے چاچو ہیں ان کو ابا کہنے سے میرے منہ میں میٹھا گھل جاتا تھا مصری کی ڈلی آپی مجھ کو جان سے پیاری تھی اب میں ان سب کی تصویویں نوچ کے اپنے اندر سے دیواریں خالی کرنا چاہتی ہوں میرے […]
وہ صورتِ گلاب ہے ہر سو کھلا ہوا حیرت یہ ہے کہ چشمِ تماشا کو کیا ہوا اے ساعتِ گریز یہ کیا ہے معاملہ کیوں دیکھتی نہیں ہو کہاں ہوں پڑا ہوا بے چہرگی کی بھیڑ میں چہرہ تلاشتے رنگوں سے، خوشبوؤں سے مرا رابطہ ہوا بارِ دگر کہو جو ابھی زیرِ لب کہا میں […]
کاغذ پہ جھیل،جھیل میں کشتی رکھی ابھی اس پر سوار خواب ، ہوا لے اڑی ابھی میں نے ہوا میں ایک اشارہ کیا فقط بارش کہیں سے آ گئی اڑتی ہوئی ابھی آنکھیں مرے وجود کا حصہ نہیں رہیں دیکھی کھلی چراغ کی کھڑکی ابھی ابھی گلشن میں کچھ پرند ہیں پچھلی بہار کے پچھلی […]
Mind Platterیہ چند ادب پارے لبنانی نژاد کنیڈین ادیبہ نجویٰ زیبین کی کتاب ” مائینڈ پلیٹر” سے منتخب اقتباسات کا ترجمہ ہیں۔نجویٰ زیبین نے اس کتاب میں اپنے ذاتی تجربات،مشاہدات اور تخیلات کو دل نشین انداز سے بیان کیا ہے۔ یہ دراصل یہ ان کی ضمیر کی صدائیں ہیں جو انھوں نے عام انسان کی […]
گلاب موسم ابھی عدم سے نہیں جواترے پیام ان کا ملا ہے مجھ کو کہ اس برس نہ کوئی بھی سیرِچمن کو نکلے کہ اس برس کی بہار کے اپنے ضابطے ہیں نئے قرینوں کی محفلیں ہیں نئے طریقوں کے رابطے ہیں مصافحے سے گریز ہوگا بجائے ہاتھوں کے دل ملیں گے نئے دنوں کے […]
آباد کروں گا میں یہی دہر دو بارہ مان لیجئے کہ یہ وہی دن ہیں جن کے لئے’ ہم ہوئے،تم ہوئے کہ میر ہوئے‘ ہمیشہ ترستے رہے ہیں بلکہ ہمارے گرو غالب آج ہو تے تو شاید زیادہ خوش ہو تے یہ اور بات کہ ہم ان کے بہت سے ایسے اشعار سے محروم ہو […]
اگرچہ رات گہری ہے ہر اک جانب اندھیرے کی عجب چادر سی لپٹی ہے عجب سی خامشی نے ہر طرف کو گھیر رکھا ہے صدا کوئی نہیں ہے اور یہ آنکھیں ابھی منظر بنانے کی تگ و دو سے بھی عاری ہیں یہ اکلاپا کسی کی جان لینے کو پیاسا ہے فقط سوچوں کا اک […]