غزل : زہرا شاہ
میں نے چپ چاپ سن لیا خود کو مدتوں بعد کچھ کہا خود کو شکل پہچان میں نہیں آئی غور سے دیکھنا پڑا خود کو مجھ کو تکلیف ہی نہیں ہوتی شاید اب ہجر کھا گیا خود کو کچھ دنوں پہلے مجھ سے ملتا تھا اب تو وہ مل نہیں رہا خود کو آج میں […]
میں نے چپ چاپ سن لیا خود کو مدتوں بعد کچھ کہا خود کو شکل پہچان میں نہیں آئی غور سے دیکھنا پڑا خود کو مجھ کو تکلیف ہی نہیں ہوتی شاید اب ہجر کھا گیا خود کو کچھ دنوں پہلے مجھ سے ملتا تھا اب تو وہ مل نہیں رہا خود کو آج میں […]
ہنسنے سے ہوا ہے نہ یہ رونے سے ہوا ہے دل اتنا حزیں عشق میں کھونے سے ہوا ہے ممکن ہے کہ پورا ہو یہ دو چار برس میں نقصان جو دنیا کا کرونے سے ہوا ہے بکھرے ہیں مِرے بال مِری شیو بڑھی ہے یہ حال مسلسل مِرے سونے سے ہوا ہے چہرہ مرا […]
جب مرے دل کو تو دکھا دے گا میرا رب مجھ کو حوصلہ دے گا وحشتِ جاں لگام دے خود کو دل کا آنگن تجھے دعا دے گا اشک جینا حرام کر دیں گے جب مجھے تو کبھی بھلا دے گا روز مرتی ہوں روز جیتی ہوں کب تلک تو بھلا سزا دے گا میری […]
Grand is he Who put us here Grand he is Grand his plan Doubts we have A trial it is Stray not from Right and truth In times of plenty We pray nor bow In times of sorrow He alone can help So all that is true Let us preach O that is divine Let […]
ہیر رانجھا پر ایک درجن فلمیں بن چکی ہیں ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں اگر یہ پوچھا جائے کہ یہ مصرع کس کا ہے تو اکثر لوگوں کا جواب وارث شاہ ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ وارث شاہ کا نہیں۔ یہ ان 11069 مصرعوں میں سے ایک ہے جومختلف شاعروں نے لکھ کر […]
گھروں میں مقفل ہو جانا پڑے گا کرونا کو یونہی بھگانا پڑے گا ہمیں اِس سے لڑنا ہے ڈرنا نہیں ہے یہ اوروں کو احسن بتانا پڑے گا ستم جو بھی ہیں وہ سہیں فاصلے پر ہے جو کچھ بھی کہنا، کہیں فاصلے پر دلوں سے مٹائیں مگر فاصلوں کو عزیزوں سے لیکن رہیں […]
وہ وینٹی لیٹر پر سانسوں کی تسبیح کرنے میں مصروف تھی ۔ مشتعل دھڑکن سینے میں دھمال ڈالتے ڈالتے تھک چکی تھی ۔ نبض گہرے پانیوں میں اپنا ہاتھ ہلاتے ہلاتے ڈوب رہی تھی ۔ کرونا سے زیادہ بڑا دشمن قرنطینہ اپنے خون آلود ناخن بردار پنجوں سے اسے نوچ رہا تھا۔ بچوں سے دوری […]
کئی دنوں سےہوا دھواں ڈھونڈ رہی ہے دور دور تک شہر کی گلیاں سناٹے سے خوف زدہ ہیں کُتے، بلیاں اور پرندے ساختہ منزلوں کے سوراخوں میں جھانک کر بھاگ جاتے ہیں سفید پوش لوگ گھروں میں اطفال کو دلاسے دے رہے ہیں اُکتائی ہوئی بے ہنگم دوڑ سے بچھڑی ہوئی ہوس خود کے بارے […]
تحریر کر رہا ہوں وبا کے دِنوں کا حال لیکن قلم اُداس ہے، الفاظ پُر ملال سَن دو ہزار بیس کے تھے اِبتدائی دِن مہمان بن کے آیا "کورونا” بُلائے بِن پہلے پہل تباہ کِیا اُس نے چائنہ پھر اس کے بعد رخ کیا سوئے "اطالیہ” پھر ہِند بچ سکا نہ ہی یورپ، اَمیرکا لاشیں […]
اشہب وقت ذرا دیر کو رک مجھ کو یہ گیند تھما میں اسے الٹا گھما کر دیکھوں کیسے دریا میں ہوا غرق وہ لشکر جس کو اپنا سردار جہاں بھر کا خدا لگتا تھا زعم کتنا تھا اسے مالکِ کل ہونے کا کس قدر اس کو بھروسہ تھا کہ اس کی قوت کرہ ء، ارض […]