غزل

غزل : رفیق سندیلوی

مَیں تیری آگ کے اندر اُتر کے دیکھوں گا جَلوں گا اور کرشمے ہُنر کے دیکھوں گا تُجھے پتا چلے آبِ رواں کو کیا دُکھ ہے مَیں ایک دن تُجھے چھاگل میں بھر کے دیکھوں گا مِلاؤں گا نئے اجزا ترے مُرکّب میں دوبارہ حُسن کی تشکیل کر کے دیکھوں گا مرا مزاج کُہستانی ہے […]

غزل

غزل : ڈاکٹرخورشید رضوی

یہ جو ننگ تھے ‘ یہ جو نام تھے ‘ مجھے کھا گئے یہ خیال ِ پُختہ جو خام تھے ‘ مجھے کھا گئے کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی وہی زاویے کہ جو عام تھے ‘ مجھے کھا گئے مَیں عمِیق تھا کہ پَلا ہُوا تھا سکُوت میں یہ جو لوگ […]

نعت

چلو مقصودؔ ! آیا ہے بُلاوا پھر مدینے کا : مقصود علی شاہ

زمین و آسماں گُونجے بیک آواز، بسم اللہ طلوعِ صبحِ مدحت کا ہُوا آغاز، بسم اللہ حرا سے کعبہ و عرشِ عُلا تک جلوہ فرمائی زمینِ دل پہ بھی فرمائیے گا ناز، بسم اللہ میانِ حشر ہوں گی جب الیٰ غیری کی تجویزیں کہیں گے ہم گنہگاروں کو چارہ ساز بسم اللہ اٹھے تعلیق کے […]

کالم

راغب مراد آ ٓبادی (چند جہتیں) : نوید صادق

اکرم کنجاہی سے خوش گوار تعارف ان کی شاعری اور ماہ نامہ غنیمت کے حوالہ سے توایک عرصہ سے ہے ، ان کے کچھ مضامین بھی زیرمطالعہ رہے لیکن راغب صاحب پر ان کی یہ تصنیف میرے علم میں نہ تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن فروری ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا اور اب دوسرا ایڈیشن جنوری […]

نظم

نئی صبح طلوع ہو گی ۔۔۔ : یوسف خالد

نئی صبح طلوع ہو گی مگر اس صبح سے پہلے مسلط رات کے پہلو سے کچھ اندھی سیاہ راتیں جنم لیں گی اندھیرا اپنے پنجے گاڑ دے گا ہر طرف اک رائیگانی رقص کرتی بستیوں میں پھیل جائے گی یہ ہونا ہے کہ اس ہونے کی تیاری مکمل ہے ہمارے منفعل کردار نے تاریکیوں کی […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

جو غم ہمارا ہے وہ غم تمہارا ہے کہ نہیں بتا دو ہم کو خدارا خدارا ہے کہ نہیں قفس کی قید کا قیدی بتائے گا کیسے ؟ بساط. عشق کا کوئی کنارا ہے کہ نہیں سمندروں کے سفر پر ہو کتنی مدت سے ادھر پلٹ کے بھی دیکھو کنارا ہے کہ نہیں گلاب کہتے […]

کالم

ماہ رمضان میں کرونا سے نجات کا نسخہ : ڈاکٹراسدمصطفیٰ

رمضان شریف اپنی برکات ومنزلات کے ہمراہ پھر سے ہمارے درمیان موجود ہے۔اس ماہ مقدس کا پہلا عشرہ رحمتوں کا ہے اوردنیا بھر کے مسلمان اس ماہ صیام کے آغاز پر رب تعالی سے پرامید ہیں کہ وہ اپنے فضل وکرم سے اس موزی جرثومے اور اس کی تباہ کاریوں سے پوری امت کو بالخصوص […]

غزل

غزل : نوید صادق

اُس نے کہنا تھا جو وہ کہا ہی نہیں اور مَیں ہوں کہ مَیں نے سنا ہی نہیں دوستوں کی شکایات اپنی جگہ اُس گلی میں کہیں کوئی تھا ہی نہیں شہر کی رونقیں ماند پڑتی گئیں گھر، محلے ۔۔۔ کہیں کچھ بچا ہی نہیں آج بھی گھر سے دفتر، وہی سلسلہ میرے معمول میں […]

تنقید

ڈاکٹرستیہ پال آنند ۔۔۔ کچھ نئی پرانی باتیں : ناصر علی سید

۔۔ آؤ ساتھ چلیں۔۔ پکڑ کے ہاتھ ، کہ اگلا سفر طویل نہیں اباسین آرٹس کونسل پشاور کی چھوٹی سی لائبریری میں ایک بڑی ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھاجسے تقریب بہر ملاقات کہنا زیادہ مناسب ہو گا،کیونکہ یہ تقریب امریکہ میں مقیم اردو،پنجابی ،ہندی اور انگریزی زبان کے ممتاز شاعر، افسانہ نگار اور […]