غزل : رفیق سندیلوی
مَیں تیری آگ کے اندر اُتر کے دیکھوں گا جَلوں گا اور کرشمے ہُنر کے دیکھوں گا تُجھے پتا چلے آبِ رواں کو کیا دُکھ ہے مَیں ایک دن تُجھے چھاگل میں بھر کے دیکھوں گا مِلاؤں گا نئے اجزا ترے مُرکّب میں دوبارہ حُسن کی تشکیل کر کے دیکھوں گا مرا مزاج کُہستانی ہے […]








