غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

  جب ہوا میں نیا اثر ہوگا میری جانب ترا سفر ہوگا میری بستی کو دیکھنے کے لیے آج پھر وہ پہاڑ پر ہوگا جس جگہ دائرے کا مرکز ہے وہ یقیناً ابھی ادھر ہوگا ہم نے لکھا تھا جس پہ اپنا نام بس وہی پیڑ معتبر ہوگا تُو جو کہتا ہے، مان لیتی ہوں […]

غزل

غزل : جاوید آغا

ہمارے دَرمیاں گَر بات تَفصیلی نہیں ہو گی رَویوں میں کِسی صُورت بھی تبدیلی نہیں ہو گی بِچھڑ کے تُجھ سے مَر جاؤں گا مَیں، کل بھی کہا جس نے وُہ بچھڑے گا تو اُس کی آنکھ بھی گِیلی نہیں ہو گی یہ سارے وَسوسے یہ مُشکلیں پہلے قَدم تک ہیں چلو گے تو کوئی […]

افسانہ

ادھوری تصویر : خاورچودھری

  اندرونِ شہر زندگی پوری طرح خاموش تھی۔ فصیل بند یہ شہرزمانوں سے آباد اور دو تہذیبوں کا نشان دار تھا۔ مندروں، دھرم شالوں اور دوسہرہ میدانوں کی تمکنت اُسی طرح قائم تھی اورپھرہردوسری گلی میں مسجدوں کے بلند میناروں سے پانچوں وقت ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدائیں بھی گونجتی تھیں۔ شہر میں کوئی ایک مکان […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

تجھے جانے کی جانم کیوں پڑی ہے قیامت کی مرے آگے گھڑی ہے تمہارا اس سے جھگڑا ہو رہا ہے جو اپنے آپ سے دن بھر لڑی ہے تری خاطر جو دریا میں گری تھی وہ لڑکی اب کنارے پر کھڑی ہے ترا کردار چھوٹا رہ گیا ہے تری دیوار نقشے سے بڑی ہے مرا […]

تنقید

اقبال کا کلام اور نوآبادیات : پروفیسرکلیم احسان بٹ

  اقبال اردو کے جدید شعری ادب کا نقطہ کمال ہے۔یوں تو غالب نے شعر میں وہ جدت و ندرت پیدا کر دی تھی کہ اب شعر لب و رخسار کے فسانوں سے نکل کر زندگی کے پیچیدہ اور گوناگوں مسائل کو بھی موضوع بنانے کے قابل ہو گیا تھا ۔مگر خالص فکر ی موضوعات […]

تنقید

اقبال کی نعت اور چند مفقود پہلو : ڈاکٹرطارق ہاشمی

اردو شاعری کے منظرنامے پر اقبال اپنی فکروفرہنگ اور اسلوب و آہنگ ہر اعتبار سے ایک مختلف سخن کار کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کے کلام میں جہاں بہت سی خصوصیات ایسی ہی ہیں جو اردو کی پوری شعری روایت میں نظر نہیں آتیں وہاں بعض ایسے اوصاف سے خود ان کی شاعری […]

غزل

ایک غزل ۔۔۔( بہ طرزِ اقبالؒ ) : عبدالباسط صائم

بپا ہے ظلمتِ پیہم، چمن تاراج ہے ساقی نہ تھا پہلے جو منظر شہرِ دل کا، آج ہے ساقی جنوں سے عقل ہے دامن کشا، حسرت کا عالم ہے خودی کے معرکوں میں بے خودی معراج ہے ساقی نہ ہو انسانیت جس میں، اسے مذہب نہیں کہتے کمالِ آدمیت دیں کے سر کا تاج ہے […]

نظم

شب کے اس پہر میں : فیض محمد صاحب

شور سہم سہم کر سڑک پہ بھاگ رہا ہے کھمبوں کے بلبوں کی روشنی تک پروانے سفر نہیں کر سکتے تھک ہار کر کیاریوں میں اُگی جواں گھاس کےقصے سُنتے سُنتے نیند میں کھو جاتے ہیں فٹ پاتھ بھوک سے گھبرا کر شب بھر بلکتا رہتا ہے وحشت مہ نوشی کے بعد قے کرتی راستوں […]

نظم

پاؤں پاؤں چلتے آؤ : ڈاکٹرستیہ پال آنند

پرسوں نرسوں سوچتا تھا بطنِ فردا میں کوئی دن اُخروی ایسا بھی ہو گا جس میں ما معنیٰ مرا ماضی پلٹ کر ساعتِ امروز ہو گا؟ اب پس ِپردہ بالاخر حال، ماضی اور مستقبل اکٹھے ہو گئے ہیں تو مجھے کہنے میں قطعاً کوئی پیش و پس نہیں ہے آنے والے دن کسی مستقبل ِ […]

ديگر

محبتیں بانٹیے : ریاض احمد احسان

اگر آپ سماج میں محبت، اخوت، الفت، چاہت،خلوص، مہربانی, شفقت، ہمدردی اور احترام کے بیج بونا چاہتے ہیں تو آپکی نشست و برخاست،جلوت و خلوت، انجمن و تنہائی اور وقت کی انوسٹمنٹ، محبت قبول کرنے والوں، محبت سمجھنے والوں، محبت کرنے والوں، محبت کا پرچار کرنے والوں اور محبت کو ہضم کرنے والوں کے ساتھ […]