ديگر

محبت اپنے حصے کی محبت مانگ لیتی ہے : یوسف خالد

درِ وابستگی پہ رکھ کے سر حسنِ عقیدت سے محبت اپنے حصے کی محبت مانگ لیتی ہے محبت ایک ایسا احساس ہے کہ جب رگ و پے میں اتر جاتا ہے تو خبر ہوتی ہے – یہ اعلان نہیں کرتا لہو میں گھل جاتا ہے – اس کا خمار آنکھوں میں اترتا ہے تو منظروں […]

غزل

غزل : ڈاکٹرخورشید رضوی

مَیں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیں کُھلا دریچہ ‘ دَر آئی صبا ‘ کہا کہ ” نہیں ” ہَوا کا رُخ تو اُسی بام و دَر کی جانِب ہے پہُنچ رہی ہے وہاں تک مِری صدا کہ نہیں لبوں سے آج سَر ِ بزم آ گئی تھی بات مگر وہ تیری […]

کالم

مختاراٸے ادب : اقتدار جاوید

  مختارا بالاخر منظر عام پر آ گیا ہے اور اپنے مربی کے ساتھ ایک سرسبز لان میں خوش بخوش دیکھا گیا ہے اور اس نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اس نے دی گٸی مغلظات کو محبت سمجھا اور تبرک جان کر حذر جان بنایا ہے اور یہ کہ اس نے محبت بھری […]

غزل

غزل : یاسمین سحر

گلے لہروں کے اٹھ کر یوں سفینہ پڑ رہا ہے ترے دریا کا پانی مجھ کو پینا پڑ رہا ہے میں کچھ دن کے لئے آئی تھی ملنے تم سے لیکن مجھے لگ بھگ یہاں پر اک مہینہ پڑ رہا ہے مری مزدوری پر اجرت بہت کم مل رہی ہے لہو سے بھی بہت مہنگا […]

افسانہ

ماں بننے کا ٹوٹکا : سعیدسادھو

یہ لوٹیوں والے سال کی ایک تاریک رات تھی جب حبیب 17 سال کی عمر میں اپنے 28 سالہ نذیر کے ساتھ چیچہ وطنی سے ساہیوال کی روڈ کے ارد گرد کے دیہاتوں میں حفاظتی گشت پہ تھا. اس کے پاس ایک بڑا یک دھاری چھرا، جب کہ نذیر، گھوڑے اور ایک پستول سے لیس […]

غزل

یہی بہُت ہے کہ لب سی رکھو ،صفائی نہ دو : ڈاکٹرخورشیدرضوی

یہی ہے عشق کہ سَر دو ‘ مگر دُہائی نہ دو وفُور ِ جَذب سے ٹُوٹو ‘ مگر سُنائی نہ دو یہ دَور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تَلے سبھی کو بزم میں دیکھو ‘ مگر دِکھائی نہ دو زمیں سے ایک تعلُّق ہے نا گُزیر مگر جو ہو سکے تو اِسے رنگ ِ […]

نعت

وہ اسمِ پاک وسیلہ بنا ہے بخشش کا : مقصودعلی شاہ

ہمیشہ نعت کہی بے زبان سانسوں نے مٹا دیے مرے باقی نشان سانسوں نے دمِ وداع نے کھینچا ہے مقطعِ مدحت خُدا کا شکر کہ رکھا ہے مان سانسوں نے رواں رہا رگِ جاں میں وہ اسمِ خیر افزا یقیں میں ڈھالے ہیں سارے گمان سانسوں نے خیالِ نعت میں تاروں نے کی ثنا بندی […]

بک شیلف

کلیاتِ مظہر (مرتبہ ارسلان احمدارسل) ۔۔۔ایک تاثر : شبیر احمد قادری

بیسویں صدی کے وہ اربابِ فکرودانش جنھوں نے اپنے شانہ تخلیق سے گیسوۓ سخن کو سنوارنے اور سلجھانے کے ذیل میں قابلِ قدرحصہ لیا،نہ صرف شاعری بلکہ نثرنویسی میں بھی کمال حاصل کیا ان میں سے ایک اہم اور معتبر نام حافظ مظہرالدین مظہر کا بھی ہے، حافظ مظہرالدین ١٩١٤ ٕمیں ستکوہا ضلع گورداسپور میں […]

نظم

تمہارے ہاتھ میں ہاتھ : ستیہ پال آنند

کس قدر آہستگی سے،دھیرے دھیرے، چپکے چپکے تم نے اپنے ہاتھ کو ہاتھوں میں میرے دے دیا ہے پھول، شبنم، صبح کی پہلی کرن کا ایک جھُمکا مخملی کافور، ٹھنڈی اور میٹھی آنچ جیسے ہاتھ کا یہ لوچ، ریشم اور سنبل کے ملن سا! تم نے اپنے ہاتھ کو ہاتھوں میں میرے دے دیا ہے […]

نظم

سات بازاروں کا شہر : اقتدار جاید

میں رونق بھرے سات بازاروں کا شہر ہوں میری آنکھوں میں پُر پیچ گلیوں کے خم ہیں جہاں دھوپ پوری نہیں پڑ رہی سینکڑوں ہیں دکانیں جہاں نرم چھجوں کے نیچے چمکدار بارش کا پانی نہیں رُک رہا پیچ کھاتی سیہ رنگ سڑکیں جہاں اب کے بجری بچھانی نہیں ریت چھلنی کے اوپر نہیں چھاننی […]