غزل : یاسمین سحر
گلے لہروں کے اٹھ کر یوں سفینہ پڑ رہا ہے ترے دریا کا پانی مجھ کو پینا پڑ رہا ہے میں کچھ دن کے لئے آئی تھی ملنے تم سے لیکن مجھے لگ بھگ یہاں پر اک مہینہ پڑ رہا ہے مری مزدوری پر اجرت بہت کم مل رہی ہے لہو سے بھی بہت مہنگا […]
گلے لہروں کے اٹھ کر یوں سفینہ پڑ رہا ہے ترے دریا کا پانی مجھ کو پینا پڑ رہا ہے میں کچھ دن کے لئے آئی تھی ملنے تم سے لیکن مجھے لگ بھگ یہاں پر اک مہینہ پڑ رہا ہے مری مزدوری پر اجرت بہت کم مل رہی ہے لہو سے بھی بہت مہنگا […]
یہ لوٹیوں والے سال کی ایک تاریک رات تھی جب حبیب 17 سال کی عمر میں اپنے 28 سالہ نذیر کے ساتھ چیچہ وطنی سے ساہیوال کی روڈ کے ارد گرد کے دیہاتوں میں حفاظتی گشت پہ تھا. اس کے پاس ایک بڑا یک دھاری چھرا، جب کہ نذیر، گھوڑے اور ایک پستول سے لیس […]
یہی ہے عشق کہ سَر دو ‘ مگر دُہائی نہ دو وفُور ِ جَذب سے ٹُوٹو ‘ مگر سُنائی نہ دو یہ دَور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تَلے سبھی کو بزم میں دیکھو ‘ مگر دِکھائی نہ دو زمیں سے ایک تعلُّق ہے نا گُزیر مگر جو ہو سکے تو اِسے رنگ ِ […]
ہمیشہ نعت کہی بے زبان سانسوں نے مٹا دیے مرے باقی نشان سانسوں نے دمِ وداع نے کھینچا ہے مقطعِ مدحت خُدا کا شکر کہ رکھا ہے مان سانسوں نے رواں رہا رگِ جاں میں وہ اسمِ خیر افزا یقیں میں ڈھالے ہیں سارے گمان سانسوں نے خیالِ نعت میں تاروں نے کی ثنا بندی […]
بیسویں صدی کے وہ اربابِ فکرودانش جنھوں نے اپنے شانہ تخلیق سے گیسوۓ سخن کو سنوارنے اور سلجھانے کے ذیل میں قابلِ قدرحصہ لیا،نہ صرف شاعری بلکہ نثرنویسی میں بھی کمال حاصل کیا ان میں سے ایک اہم اور معتبر نام حافظ مظہرالدین مظہر کا بھی ہے، حافظ مظہرالدین ١٩١٤ ٕمیں ستکوہا ضلع گورداسپور میں […]
کس قدر آہستگی سے،دھیرے دھیرے، چپکے چپکے تم نے اپنے ہاتھ کو ہاتھوں میں میرے دے دیا ہے پھول، شبنم، صبح کی پہلی کرن کا ایک جھُمکا مخملی کافور، ٹھنڈی اور میٹھی آنچ جیسے ہاتھ کا یہ لوچ، ریشم اور سنبل کے ملن سا! تم نے اپنے ہاتھ کو ہاتھوں میں میرے دے دیا ہے […]
میں رونق بھرے سات بازاروں کا شہر ہوں میری آنکھوں میں پُر پیچ گلیوں کے خم ہیں جہاں دھوپ پوری نہیں پڑ رہی سینکڑوں ہیں دکانیں جہاں نرم چھجوں کے نیچے چمکدار بارش کا پانی نہیں رُک رہا پیچ کھاتی سیہ رنگ سڑکیں جہاں اب کے بجری بچھانی نہیں ریت چھلنی کے اوپر نہیں چھاننی […]
پہرے میں سختی آتی جارہی تھی۔ لوگ گھروں میں یوں دبکے بیٹھے تھے، جیسے باہر کی دُنیا سے آشنا ہی نہ ہوں۔ ہُو کا ایساعالم تھا، جس طرح قیامت خیزآندھیوں اور سیلابوں سے پھیل جانے والی تباہی کے بعد ہوتا ہے۔ گھریلو زندگی کچھ اس سے زیادہ مختلف نہ تھی۔ کوئی نہیں بتاسکتا تھا، […]
کچھ ادھر باقی ہے کچھ خاص ادھر باقی ہے کیا کہوں کیسے کہوں کیسا یہ ڈر باقی ہے عزم ٹوٹے گا نہیں زیست رلاتی جا تو مجھ میں جینے کا ابھی دیکھ ہنر باقی ہے تیری جانب سے جفاؤں کی بھلا فکر ہو کیوں مجھ میں موجود ابھی ذوقِ نظر باقی ہے خامشی شور مچاتی […]
میں آدم زاد ہُوں یہ بھر بھری مٹی مری پہچان ہے اور سر پھری وحشی ہَوا میرا حوالہ ہے مرے اندر کہیں پاتال میں وحشت کے سارے رنگ یکجا ہیں میں پتھر تو نہیں پتھر میں تو انکار کی جرات نہیں ہوتی ! مگر میں آج بھی انکار کرتا ہُوں خود اپنے نصف چہرے کا […]