غزل : ثمینہ سید
ثمینہ سید ذرا بارش برستی ہے شگوفے جاگ اٹھتے ہیں کئی رنگوں کی خوشبو سے دریچے جاگ اٹھتے ہیں ابھی تک پاوُں کی آہٹ سےیہ مٹی شناسا ہے تمہارے ساتھ چلتی ہوں تورستے جاگ اٹھتے ہیں کچھ ایسے روشنی دل میں اترتی ہے قرینے سے بہت امکاں تیرے وعدوں کے صدقے […]


