غزل : یوسف خالد
یوسف خالد آ کر لیں کسی طور محبت کا اعادہ مدت ہوئی پہنے ہوئے خوش رنگ لبادہ آنکھوں میں اداسی نے لگارکھے ہیں ڈیرے ڈر لگتا ہے ہو جائے نہ یہ ہجر زیادہ مشکل بھی ہو گر بات تو مشکل نہیں رہتی اسلوبِ بیاں اپنا ہے سادہ سے بھی […]
یوسف خالد آ کر لیں کسی طور محبت کا اعادہ مدت ہوئی پہنے ہوئے خوش رنگ لبادہ آنکھوں میں اداسی نے لگارکھے ہیں ڈیرے ڈر لگتا ہے ہو جائے نہ یہ ہجر زیادہ مشکل بھی ہو گر بات تو مشکل نہیں رہتی اسلوبِ بیاں اپنا ہے سادہ سے بھی […]
سعیداشعر روزانہ رات کے تقریباً بارہ بجے کھڑکی سے آنے والا باہر کا شور جب مدہم پڑ جاتا ہے کمرے کی خاموشی نوکیلی ہونے لگتی ہے اے سی کی بوسیدہ ٹھنڈک سے پاؤں جلنے لگتے ہیں کمرے میں بکھرے کاغذ زندہ ہو کر اڑنے لگتے ہیں لفظوں کے جگنو اور آنکھوں کے تارے آپس میں […]
شاہد جان اپنے رخ پر تری سانسوں کی ہوا رکھتے تھے باغ سے دور بھی ہم بادِ صبا رکھتے تھے ذائقہ اب وہ کہاں اب وہ کہاں بات کہ جب اپنے ہونٹوں پہ ترے لب کا مزا رکھتے تھے جام کے کام کا آغاز جدائی سے ہوا ورنہ […]
نصرت نسیم گہرا اندھیرا، سردی پت جھڑ کی ویرانی ہوائیں تند و تیز خزاں کی حکمرانی پتے زمین پر دل مٹھی میں بند زہن میں جھکڑ انجانا خوف و اندیشے جانے کب زندگی کے درخت سے عمر کاپتہ یوں ہی چپکے سے گر جائے نصرت نسیم 19 دسمبر 2018
غزالہ مغل بے رخی سے جلا کرے کوئی مجھ سے میرا گلہ کرے کوئی جب بھی ہو بےقرار دل میرا نام اس کا لیا کرے کوئی خواب میرے بسا کے آنکھوں میں نیند کا آسرا کرے کوئی توڑ کر جاچکا ہے سب بندھن کیسے اب رابطہ کرے کوئی سرخ جوڑا ہواور ہرے کنگن حسرتوں سے […]
نیلما ناہید درانی شکر ونڈو نی میرا پیا گھر آیا۔۔۔۔۔۔لال نی قربان حسین قوال کی آواز میں یہ قوالی گویا زمین سے آسمان تک پہنچ رھی تھی۔۔۔۔ہم سب بچے جو بے فکری سے چھپن چھپائی کھیلتے ہوئے سڑک پر نصب ٹینٹوں کے گرد بھاگ رھے تھے ، ایک دم رک گئے۔۔۔ اور مارکیٹ کی چھت […]
فیصل اکرم تھے آگ آتش یہ جلتے منظر دہکتا سورج شرر الاؤ بھڑکتے شعلے ترے تبسم سے پھول بن کے مہک رہے ہیں
افتخار بخاری بارش گرتی ہے مٹیالی قبروں پر بارش گرتی ہے حد نظر تک جل تھل سیلا سیلا خواب مسلسل یاد نہیں میں نے بارش کو پہلی بار کہاں دیکھا تھا کھڑکی میں یا خواب میں چھت پر یا دریا کے کنارے افریقہ کے بچوں کی بنجر آنکھوں میں یا بنگال میں ننگی لاشوں والے […]
ڈاکٹرناصرعباس نیر ّ (۳) نو آبادیات ، سٹیریو ٹائپ اور برگشتگی نو آبادیاتی عہد سٹیریو ٹائپ سازی میں بے مثال کہا جاسکتاہے۔سٹیریو ٹائپ ’طاقت کے کلچر‘ میں کتنا بنیادی کردار اداکرتے ہیں، طاقت پر اجارے کی کوششوں میں کتنا معاون ہوتے ہیں،جن طبقات کے لیے یہ وضع ہوتے ہیں ،انھیں کس طرح حاشیے پر جا […]
سعیداشعر "کھل جا سم سم” کہنے سے اب کوئی دروازہ نہیں کھلتا دروازرے ہاتھ کا لمس اور آنکھ کی پتلی کو پہچانتے ہیں نوٹوں کا تھیلا ہاتھ میں لے کر چلنے والے احمق کہلاتے ہیں اعداد کی چوری کرنے والے سات سمندر کی دوری پر بیٹھے ہیں مٹی کا سودا اب بھی قحبہ خانوں میں […]