غزل : سعید اشعرؔ
سعید اشعرؔ بھٹک رہا تھا سرِ دشت قافلہ دل کا تلاش کرتا رہا میں بھی رہنما دل کا مکین اتنا ہوا ہی نہیں، نہ ہونا ہے ترے علاوہ کبھی کوئی، دوسرا، دل کا اسے تو سجنے سنورنے کی کچھ طلب ہی نہی وگرنہ سامنے رکھا ہے آئنہ دل کا معاملہ جو محبت کا سامنے آیا […]


