پیلے پتے : مسرت عباس ندرالوی
گاوں کا اک کچا سا گهر گهر کے صحن میں بیری کا اک پیڑ پیڑ پہ بولتے طوطے اور ایک مانوس سی آواز آو نا ؛- دیکهو کتنے بیر چنے ہیں میں نے سرخ دوپٹہ گلے میں اس کے کچے پکے ادھ کهائے مٹهی بهر بیر مجھ کو دیتے ہوئے وہ طوطوں سے بهی زیادہ […]








