غزل : ظہور چوہان
ہر طرف سینے میں اُس کی ہی کھٹک رہتی ہے جو شفق رنگ کہیں زیرِ فلک رہتی ہے پوری ہو جاتی اگر کوئی کہانی ہوتی یہ محبت ہے میاں ! اِس میں کسک رہتی ہے اب سمجھ آئی، خوشی کیا ہے؟ دلِ افسردہ ! یہ نہ ہو تو کہاں […]
ہر طرف سینے میں اُس کی ہی کھٹک رہتی ہے جو شفق رنگ کہیں زیرِ فلک رہتی ہے پوری ہو جاتی اگر کوئی کہانی ہوتی یہ محبت ہے میاں ! اِس میں کسک رہتی ہے اب سمجھ آئی، خوشی کیا ہے؟ دلِ افسردہ ! یہ نہ ہو تو کہاں […]
کیوں؟ آخر کیوں؟ اب یہ سوال میرے دماغ میں اٹک کر رہ گیا ۔ گھٹنوں سے کچھ نیچے اور ٹخنوں سے کچھ اوپر گھنگھرو ۔ آخر کیوں؟ کیا فلسفہ کیا منطق کیا دلیل ہے؟ یہ کون سا فیشن ہے ؟ رات غارت گئی ہر ہفتے دو ہفتے بعد گانا سننے بازارِ حسن ۔۔۔ نوٹوں کی […]
تمام مومی حروف ، سنگی مجسموں میں بدل گئے ہیں عجیب موسم کہ جگنوئوں نے بھی آتشی پیرہن کو اپنے بدن کا نغمہ قرار دے کر حیات افروز ساعتوں کو سپرد آتش کیا ہے ایسے جو خاک_ انکار ، حالت_ انتشار میں تھی اسے بھی اثبات کو نفی میں بدلنے کا اختیار تفویض کر دیا […]
” کسی کے پاس چائنہ کے موبائل کا چارجر موجود ہے ؟ ہاں ہاں سام سنگ کے موبائل کی پن والا ” مشاعرے میں اگر کوئی شاعر اچانک موبائل کا چارجر مانگ لے تو سمجھ جائیں کہ اس کے دیوان کو بجلی کے کچھ جھٹکے درکار ہیں ۔ بجھے ہوئے کلام کو شعلہ دے منور […]
مسٹر زادے فارسی زبان کا ایک بڑا مشہور محاورہ ہے۔ زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم ایسا لگتا ہے یہ محاورہ مجھے ہمیشہ سے ازبر ہے۔ میں نے اسے بے شمار بار برمحل استعمال بھی کیا ہے۔ جماعت ششم سے لے کر جماعت ہشتم تک سکول میں، میں نے فارسی پڑھی۔ اس […]
سہ ماہی”لوح” جدید اردو ادب کے بنیاد گزار ادبی رسائل میں شامل ہوچکا ہے۔ادبی رسائل میں اس زرخیز پرچے کا تخصص یہ ہے کہ اس میں تین نسلوں کے نمائندہ شاعر و نثر نگار تخلیقی رنگ بکھیر رہے ہیں۔ یہ جدید عہد کا تقاضا بھی بھی ہے اور ضرورت بھی جسے 672 صفحات پر پھیلے […]
Glory to you Praise and prayer Warrior’s who stood To embrace death Defended the reign All wise and worthy For state, for dwellers Took all toll,the fall Flesh piercing arrows Limb slashing blades Now slayed they were Yet never conquered Prosperity regained Peace all revived Dead , long gone Yet immortal somehow In monuments, built […]
یوں ہے پھر اس نے مسلسل مجھ کو نظر انداز کیا کاغذ پہ سیاہی گر جاتی ہے کپڑوں پہ لگا دھبہ کسی سلوٹ میں چھپ جاتا ہے ہاتھ کی ریکھاؤں کا کس نے حساب رکھا سوکھی شاخ پہ بیٹھا پنچھی کب اڑ جاتا ہے ویران حویلی کے کچھ دروازوں کو دیمک چاٹ رہی ہے "مرشد […]
آج پھر اس کی دیہاڑی نہ لگی ۔ شام کو جیب میں پھر چند ٹکوں کا قحط ڈالے اپنے گھر لمبی بدنصیبی کی طرح واپس آگیا ۔ آدھ درجن بچوں میں اصغر سب سے چھوٹا تھا ۔ وہ ہر روز چڑھتے سورج کے ساتھ اصغر سے چابی والی کار کا وعدہ کر […]
سامانِ جان بے سروسامان می برَد ترتیبِ رنگِ بوستان طوفان می برَد موہوم نقطہ می شوَد مرکز بشوکتش سینہ بجاہ تارِ گریبان می برد غارت گرِ جہان می جوید شکار گاہ رونق تمام دیدہِ حیران می برد آہِ دو سرد می کشد بر آتشِ وجود گردوغبارِ رہگزر باران می […]