سیاہی میں ڈوبی انگلی : سعید اشعر
یوں ہے پھر اس نے مسلسل مجھ کو نظر انداز کیا کاغذ پہ سیاہی گر جاتی ہے کپڑوں پہ لگا دھبہ کسی سلوٹ میں چھپ جاتا ہے ہاتھ کی ریکھاؤں کا کس نے حساب رکھا سوکھی شاخ پہ بیٹھا پنچھی کب اڑ جاتا ہے ویران حویلی کے کچھ دروازوں کو دیمک چاٹ رہی ہے "مرشد […]
