نظم

سنڈریلا کی کہانی میں : نجمہ منصور

سنڈریلا کی کہانی میں میدان جنگ سے بھاگی ہوئی اس معذور بچی کا ذکر کہیں نہیں ہے جو جنگ کی ہولناکیوں کی زندہ تصویر بنی ایک ہی راگ الاپتی کہ تتلیاں خود کشی نہیں کرتیں انہیں کچل دیا جاتا ہے ان کی لاشوں کو دفن بھی نہیں کیا جاتا وہ خود ہی مٹی میں مٹی […]

پنجابی صفحہ

کھوُہ دا تُکا : محمد جاوید انور

کھُوہ دا تُکا ٹُک ٹُک بولے اگے ویکھ نہ پچھے تک پچھے جے مُڑ ویکھیں گا پتھر دا ہو جاویں گا کھلا کھلوتا رہ جاویں گا بھرا بھریتا رہ جاویں گا چُپ چپیتا رہ جاویں گا اگے ویکھ نہ پچھے تک کھوہ دا تُکا ٹک ٹک بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعت

آج  پھر  نعت  کا  دریائے کرم  جوش  میں  ہے : مقصود علی شاہ

دل کہاں ضبط میں ہے،آنکھ کہاں ہوش میں ہے آج  پھر  نعت  کا  دریائے کرم  جوش  میں  ہے اذن مِلتے  ہی  نکل  آئے   گا  یہ  نُور  بکف رات سے مِہر جو رقصاں تری پاپوش میں ہے بے خطر ایسے نہیں ہُوں مَیں سوئے حشر رواں میرے حصے کی شفاعت تری آغوش میں ہے ساتھ لے […]

ديگر

میرے آنگن روز پپیہا گیت ملن کے گائے (دوہے) : نوشی ملک

میرے آنگن روز پپیہا گیت ملن کے گائے پریت نہ جاگے پیتم کے من کیسا یہ انیائے ____________________ میت نہ سمجھے وقت کی دھارا کوئی کرو اُپائے ہر آتی رت کی بھٹی میں جوبن پگھلا جائے ___________________ بے دردی من موجی کو اب کیا کوئی سمجھائے جب تک روگ عشق نہ لاگے سمجھ نہ کچھ […]

غزل

غزل : انیس احمد

اس جہاں میں کئی دوغلے لوگ ہیں ہے کہاں پر کمی دوغلے لوگ ہیں عشق کب روگ ہے ، زندگی بول تو ان سے ہی مل گئی ، دوغلے لوگ ہیں جان لیتا ہوں میں ، دوغلی بات کو جس نے جیسے کہی ، دوغلے لوگ ہیں حسن_ کردار دنیا میں اب بھی ملے جھوٹ […]

افسانہ

نظارہ درمیاں ہے : قرۃ العین حیدر

تارا بائی کی آنکھیں تاروں ایسی روشن ہیں اور وہ گرد وپیش کی ہر چیز کو حیرت سے تکتی ہے، دراصل تارا بائی کے چہرے پر آنکھیں ہی آنکھیں ہیں، وہ قحط کی سوکھی ماری لڑکی ہے جسے بیگم الماس خورشید کے ہاں کام کرتے ہوئے صرف چند ماہ ہوئے ہیں اور وہ اپنی مالکن […]

غزل

غزل : محمودپاشا

گھر کی حالت سے نہیں لگتا کہ گھر بولتا ہے لوگ کہتے  ہیں  یہاں کوئی  مگر بولتا ہے ہو رہی ہیں کہیں شاہوں کی زبانیں لرزاں اور کہیں نیزے پہ رکھا  ہوا  سر بولتا ہے مجھ  پہ خاموشی کا  الزام  لگانے  والو میں نہ بولوں تو مرا دستِ ہنر بولتا ہے ان فصیلوں سے نہیں […]