میں دیکھ اپنے آپ کو ہی لوٹتا رہا پھر کامیابی کے نشے میں جھومتا رہا ایسی بہار آئی ہے زخموں کے درمیاں ہر درد سے تُو پھوٹا ہے پھر پھوٹتا رہا اب کے خزانی رُت میں حسِ شامہ بھی گئی کاغذ کے ایک پھول کو مَیں سونگھتا رہا اب ڈوب جاؤں مَیں یہاں پر یا […]
وہ جب اسکول روانہ ہوا تو اس نے راستے میں ایک قصائی دیکھا جس کے سر پر ایک بہت بڑا ٹوکرا تھا۔ اس میں دو تازہ ذبح کیئے ہوئے بکرے تھے۔ کھالیں اتری ہوئی تھیں اور ان کے گوشت میں سے دھواں اُٹھ رہا تھا۔ جگہ جگہ پر یہ گوشت جس کو دیکھ کر مسعود […]
انسان ازلی طور پر فطرت سے وابستہ ہے ۔ زمین پر زندگی کی ابتدا بھی پھل کھانے کی پاداش میں سزا کے طور پر ہوئی ۔یہ بھی طے ہے انسان جہاں رہ رہا ہو وہ فطرت سے جڑا ہوتا ہے اور وہاں کی فضا ، ماحول ، موسم اور اس کی شدت سے خود کو […]
زمانی تسلسل میں مَیں کام کرتا نہیں ہوں زمانے سے باہر کی رَو چاہیے میرے دل کو زمانہ تو اِک جزر ہے مَد تو باہر کسی لازماں، لامکاں سے اُمڈتا ہے قطاروں میں لگنے سے حاصل نہیں کچھ کہ وہ لمحۂ مُنتظر تو کسی اجنبی سمت سے آتے دُم دار تارے کی صورت ۔۔۔ جو […]
کلیاں بہہ کے خواب سجاندا رہنا واں اِنج سَدھراں دا مان ودھاندا رہنا واں آپ اُسار کے آپے ڈھاندا رہنا واں کھوہ دی مٹی کھوہ وچ لاندا رہنا واں اوہ آوے نہ آوے اوہدی مرضی اے میں آساں دے دیپ جلاندا رہنا واں اِکلاپے دی اگ بجھاون دی خاطر اکھاں وچوں نیر وگاندا رہنا واں […]
لُوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا۔ اس گرمی میں اِضافہ ہو گیا جب چاروں طرف آگ بھڑکنے لگی۔ ایک آدمی ہارمونیم کی پیٹی اُٹھائے خوش خوش گاتا جا رہا تھا۔ "جب تم ہی گئے پردیس لگا کے ٹھیس، او پیتم پیارا، دُنیا میں کون ہمارا۔”ایک چھوٹی عمر کا لڑکا جھولی میں پاپڑوں کا انبار ڈالے […]
رفتہ رفتہ میری تنہائی کا موجب ٹھہرا بس تیرا عشق ہی رسوائی کا موجب ٹھہرا مجھ کو سر سبز نظر آیا خزاں کا موسم اک تصور میری رعنائی کا موجب ٹھہرا کس کاجلوہ تھا میرے سامنے معلوم نہیں زاویہ دید کا انگڑائی کا موجب ٹھہرا بام پر اس نے جو لہرایا وہ آنچل اپنا صبحِ […]
ایک جیسے رنج و غم ہیں ،ایک جیسی راحتیں ایک سے کردار سارے،ایک جیسی عادتیں روٹھنا بھی ایک جیسا،ایک جیسا ماننا روز و شب بھی ایک جیسے ایک جیسی ساعتیں خواب بھی یکساں سبھی کے،خواب کی تعبیر بھی ایک جیسی سب لکیریں ایک سی تقدیر بھی ایک سے احساس آزادی کے متوالے سبھی اور یہ […]
وہ خاک سے اٹی پیشانی میرے روبرو تھی جس کے کنارے رات کے اولین لمحوں میں پورا چاند طلوع ہوتا تھا اس روشن پیشانی کے نام میں نے اپنے حصے کا بوسہ تسطیر کیا تو میرے لہو میں دم توڑتے چراغ پھڑپھڑانے لگے چاند کی روپہلی چاندنی میں میں نے اپنے ہمعصروں کے نام موت […]
صحت کے حوالے سےڈاکٹراقراوارث کے مضامین آپ ’’خیال نامہ‘‘پڑھ چکے ہیں ۔ان مضامین کی خوب یہ ہوتی ہے کہ یہ بوجھل میڈیکل ٹرمینالوجیز کی بجائےعام فہم اور سادہ زبان میں تحریرکیے جاتے ہیں ۔ذیابیطس کے حوالے سے ان کا ایک عمدہ مضمون ’’ تفکر‘‘ لاہور کے شکریہ کے ساتھ۔