ماضی : فیض محمد صاحب
دیوار میں لگی کھڑکی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا اس کی باہوں سے سانسوں میں اترتی خوشبو میں میں تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں جاناں طویل بارشوں کےسلسلہ ہے اور پرانی تصویریں دیکھ دیکھ کر سہانے موسم کا پل پل رنگیں کر رہا ہوں اتنے برسوں کے بعد بھی میرا دل تمہاری چاہت میں دھڑکتا ہے […]









