غزل : انیس احمد
اس جہاں میں کئی دوغلے لوگ ہیں ہے کہاں پر کمی دوغلے لوگ ہیں عشق کب روگ ہے ، زندگی بول تو ان سے ہی مل گئی ، دوغلے لوگ ہیں جان لیتا ہوں میں ، دوغلی بات کو جس نے جیسے کہی ، دوغلے لوگ ہیں حسن_ کردار دنیا میں اب بھی ملے جھوٹ […]
اس جہاں میں کئی دوغلے لوگ ہیں ہے کہاں پر کمی دوغلے لوگ ہیں عشق کب روگ ہے ، زندگی بول تو ان سے ہی مل گئی ، دوغلے لوگ ہیں جان لیتا ہوں میں ، دوغلی بات کو جس نے جیسے کہی ، دوغلے لوگ ہیں حسن_ کردار دنیا میں اب بھی ملے جھوٹ […]
تارا بائی کی آنکھیں تاروں ایسی روشن ہیں اور وہ گرد وپیش کی ہر چیز کو حیرت سے تکتی ہے، دراصل تارا بائی کے چہرے پر آنکھیں ہی آنکھیں ہیں، وہ قحط کی سوکھی ماری لڑکی ہے جسے بیگم الماس خورشید کے ہاں کام کرتے ہوئے صرف چند ماہ ہوئے ہیں اور وہ اپنی مالکن […]
Our City The shadow of fear on the gateways The cries and the noise on full swing Snakes are hanging on the walls The dying birds The dispersed feathers Over the roads All the streets are deserted The jungle is better than this city So it is better We should live in the jungle Jungle […]
گھر کی حالت سے نہیں لگتا کہ گھر بولتا ہے لوگ کہتے ہیں یہاں کوئی مگر بولتا ہے ہو رہی ہیں کہیں شاہوں کی زبانیں لرزاں اور کہیں نیزے پہ رکھا ہوا سر بولتا ہے مجھ پہ خاموشی کا الزام لگانے والو میں نہ بولوں تو مرا دستِ ہنر بولتا ہے ان فصیلوں سے نہیں […]
خبر ملی ہے کہ اٹھتا ہے دھواں پانی سے آتش ِعشق بجھے ، ممکن ہے کہاں پانی سے میں زر_اشک سنبھالوں تو ہنرور ٹھہروں میں اگر اشک اجالوں تو گماں پانی سے ایک برسات ہر اک لمحہ رہے چاروں اور جانے کیوں خالی رہے من کا جہاں پانی سے میرے احباب مرے دکھ کو جلا […]
People only focus on the toxicity of anything,this means that they entertain fears and threats so much that their is little room left for all the good to move in. Entertain those threats, save yourself, but every now and then have a heart and appreciate all the good this world has to offer.You might find […]
*ابو ظہبی(مسرت عباس) ظہیر الدین محمد بابر تمام اصناف نظم کے بہترین شاعر ، ماہر علم عروض، سوانح نگار، مذہبی دانشور، مترجم اور بہترین منتظم تھے، ضرورت اس امر کی ہےکہ نوجوان نسل ان کےسنہری کار ناموں کو یاد رکھے، بزرگوں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے باہمی محبت و سلوک سے رہے اور […]
تجسس کی راہیں اپنائے اکثر وہ خطوں میں مجھ سے پوچھتی تھی اُن لائنوں پر بڑے دائرے بنا کر کہ کس مکاں کے مکیں ہو تم؟ کہاں پر آباد ہے تمہاری دنیا؟ دنیا ایسی جہاں پہ خاکبازی مشغلہ نہیں ہے! جہاں پہ بہاروں کو ثبات ہے حاصل جہاں کے پھول، پھل اور پیڑ ہیں کامل […]
میں کوٸی شے دوبارہ نہیں لکھ رہا صرف دہرا رہا ہوں کوٸی پیش، جزم اور زیر اور زبر تک بدلنے نہیں جا رہا یہ حکایت قدیمی ہے دن ریت کے دانوں کی طرح اڑتے ہیں لیکن حکایت کہ ذرہ برابر بھی تبدیل ہوتی نہیں اس حکایت کا سننا سنانا زمانے کو دھکا لگانا زمانے کو […]