نظم

ہر گرفتار محبت کے لیے یکساں نصاب : یوسف خالد

ایک جیسے رنج و غم ہیں ،ایک جیسی راحتیں ایک سے کردار سارے،ایک جیسی عادتیں روٹھنا بھی ایک جیسا،ایک جیسا ماننا روز و شب بھی ایک جیسے ایک جیسی ساعتیں خواب بھی یکساں سبھی کے،خواب کی تعبیر بھی ایک جیسی سب لکیریں ایک سی تقدیر بھی ایک سے احساس آزادی کے متوالے سبھی اور یہ […]

نظم

ہمارے درمیان نوعی دیوار تھی : ڈاکٹر جواز جعفری

وہ خاک سے اٹی پیشانی میرے روبرو تھی جس کے کنارے رات کے اولین لمحوں میں پورا چاند طلوع ہوتا تھا اس روشن پیشانی کے نام میں نے اپنے حصے کا بوسہ تسطیر کیا تو میرے لہو میں دم توڑتے چراغ پھڑپھڑانے لگے چاند کی روپہلی چاندنی میں میں نے اپنے ہمعصروں کے نام موت […]

صحت کے مسائل

ذیابیطس میں پاوں کی حفاظت : ڈاکٹراقرا وارث

صحت کے حوالے سےڈاکٹراقراوارث کے مضامین آپ ’’خیال نامہ‘‘پڑھ چکے ہیں ۔ان مضامین کی خوب یہ ہوتی ہے کہ یہ بوجھل میڈیکل ٹرمینالوجیز کی بجائےعام فہم اور سادہ زبان میں تحریرکیے جاتے ہیں ۔ذیابیطس کے حوالے سے ان کا ایک عمدہ مضمون ’’ تفکر‘‘ لاہور کے شکریہ کے ساتھ۔

غزل

غزل : سعیداشعر

اک روز مجھ سے وہ بھی ملا تھا مروتاً "اچھا لگا ہے مل کے” کہا تھا مروتاً دیتے رہے تھے سایہ مجھے بے حساب پیڑ رستہ بھی ساتھ ساتھ چلا تھا مروتاً حاصل یہی ہے میرے سفر کا تمام بس وہ چند گام ساتھ چلا تھا مروتاً محفل میں ایک دوسرے سے مل رہے تھے […]

کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں : ناصر کاظمی

  کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو تھوڑی سی خاکِ کوچۂ دلبر ہی چلیں یہ کہہ کے چھیٹرتی […]

ناصر کاظمی کو رخصت ہوئے 48 برس بیت گئے : اسلم ملک

ناصر کاظمی 8 دسمبر، 1925ءکو انبالہ شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد محمد سلطان کاظمی فوج میں صوبیدار میجر تھے۔والد کے تبادلوں کی وجہ سے ان کا بچپن کئی شہروں میں گزرا ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈی بی ہائی سکول نشائی (صوبہ سرحد) اور نیشنل ہائی سکول پشاور سے حاصل کی. میٹرک […]

نظم

آواز بنو ہر کشمیر کی : نواز انبالوی

سہمی ہوئی بچی ٹوٹی چھت تلے اور میلے کپڑے سے بدن ڈھانپے پردے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے خوف کی لہر بدن کو مسلسل چھیڑے جا رہی ہے وہ کم سن بچی باہر نکلے بھی تو کیسے نکلے باہر کا منظر بڑا ہولناک ہے باہر ہوس کی بُو ہے باہر نکلو تو دم گھٹتا ہے […]

نظم

تین عمریں گزرنے کے بعد بھی : منیرنیازی

یہ شجر جو شامِ خزاں میں ہیں جو مکاں ہیں ان کے قریب کے کسی عمر کی کوئی یاد ہیں یہ نشان شہرِ حبیب کے انھیں دیکھتا ہوں مَیں چپ کھڑا جو گزر گئے انھیں سوچتا یہ شجر جو شامِ خزاں میں ہیں جو مکاں ہیں ان کے قریب کے انہی بام و در میں […]

غزل

غزل : رحمان حفیظ

پوچھ مت نارسادعاؤں کی دیکھ تنویر کہکشاؤں کی بے زمیں راستے ہوئے آباد اْڑ گئی نیند دیوتاؤں کی آسماں ہے کہ چادرِ تخیل کہکشاں ہے کہ دْھول پاؤں کی اک تماشائی اور دس کردار ایک تمثیل دھوپ چھاؤں کی ہے تحرّک میں ایک اک محور سانس پھولی ہے سب دشاؤں کی قرض باقی ہے ابتداؤں […]