غزل

غزل : سعیداشعر

اک روز مجھ سے وہ بھی ملا تھا مروتاً "اچھا لگا ہے مل کے” کہا تھا مروتاً دیتے رہے تھے سایہ مجھے بے حساب پیڑ رستہ بھی ساتھ ساتھ چلا تھا مروتاً حاصل یہی ہے میرے سفر کا تمام بس وہ چند گام ساتھ چلا تھا مروتاً محفل میں ایک دوسرے سے مل رہے تھے […]

کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں : ناصر کاظمی

  کچھ یادگارِ شہر ستمگر ہی لے چلیں آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر سر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیں رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو تھوڑی سی خاکِ کوچۂ دلبر ہی چلیں یہ کہہ کے چھیٹرتی […]

ناصر کاظمی کو رخصت ہوئے 48 برس بیت گئے : اسلم ملک

ناصر کاظمی 8 دسمبر، 1925ءکو انبالہ شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد محمد سلطان کاظمی فوج میں صوبیدار میجر تھے۔والد کے تبادلوں کی وجہ سے ان کا بچپن کئی شہروں میں گزرا ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈی بی ہائی سکول نشائی (صوبہ سرحد) اور نیشنل ہائی سکول پشاور سے حاصل کی. میٹرک […]

نظم

آواز بنو ہر کشمیر کی : نواز انبالوی

سہمی ہوئی بچی ٹوٹی چھت تلے اور میلے کپڑے سے بدن ڈھانپے پردے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے خوف کی لہر بدن کو مسلسل چھیڑے جا رہی ہے وہ کم سن بچی باہر نکلے بھی تو کیسے نکلے باہر کا منظر بڑا ہولناک ہے باہر ہوس کی بُو ہے باہر نکلو تو دم گھٹتا ہے […]

نظم

تین عمریں گزرنے کے بعد بھی : منیرنیازی

یہ شجر جو شامِ خزاں میں ہیں جو مکاں ہیں ان کے قریب کے کسی عمر کی کوئی یاد ہیں یہ نشان شہرِ حبیب کے انھیں دیکھتا ہوں مَیں چپ کھڑا جو گزر گئے انھیں سوچتا یہ شجر جو شامِ خزاں میں ہیں جو مکاں ہیں ان کے قریب کے انہی بام و در میں […]

غزل

غزل : رحمان حفیظ

پوچھ مت نارسادعاؤں کی دیکھ تنویر کہکشاؤں کی بے زمیں راستے ہوئے آباد اْڑ گئی نیند دیوتاؤں کی آسماں ہے کہ چادرِ تخیل کہکشاں ہے کہ دْھول پاؤں کی اک تماشائی اور دس کردار ایک تمثیل دھوپ چھاؤں کی ہے تحرّک میں ایک اک محور سانس پھولی ہے سب دشاؤں کی قرض باقی ہے ابتداؤں […]

نعت

نعت : مقصود علی شاہ

زمین و آسماں گُونجے بیک آواز، بسم اللہ طلوعِ صبحِ مدحت کا ہُوا آغاز، بسم اللہ حرا سے کعبہ و عرشِ عُلا تک جلوہ فرمائی زمینِ دل پہ بھی فرمائیے گا ناز، بسم اللہ میانِ حشر ہوں گی جب الیٰ غیری کی تجویزیں کہیں گے ہم گنہگاروں کو چارہ ساز بسم اللہ اٹھے تعلیق کے […]

شاعری

چند ہائیکو : حامد یزدانی

  ہائیکو ۔۔۱۔۔ موسمِ ہجر کیوں نہ پیارا لگے سوچ کے دل فریب صحرا میں تیری یادوں کے پھول کھلتے ہیں ۔۔۲۔۔ رت جگے کہہ رہے ہیں کانوں میں بیٹھ کر شام کے کنارے پھر آو ! خوابوں کا انتظار کریں ۔۔۳۔۔ برف رُت کے گلاب کیا جانیں جلتے سورج کے سائبان تلے دھوپ کے […]

نظم

دیکھ ذرا ان آنکھوں میں : نواز انبالوی

اے دیکھنے والے دیکھ ذرا ان آنکھوں میں پاتال میں دیکھ تو دیکھ کہ کتنے اجلے سورج دل کش مناظِر روشن تصویریں فصیلِ آنکھ سے پیوستہ ہیں کشادہ رہگزریں دامنِ دل تک پھیلی ہوئی میری ان آنکھوں میں عیاں ہیں کہ جا بجا ہیں یہ کبھی خواب کی صورت تھے میرے میری طلب کی دھن […]