افسانہ

شہتوت : تحریر اور ترجمہ فاروق سرور

” شہتوت "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پشتو ادب سے اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کیا جائے۔چاول تو بڑے مزے دار تھے،جبکہ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ اب مزید کھائے جائیں۔ لیکن مزید کہاں سے آئیں گے؟ اس کا ذہن اس نکتے پر دوبارہ سوچنے لگتا ،بلکہ بار بار سوچتا۔ یہ شہر […]

غزل

غزل : راجر ودوان

جب تم نہیں تو تختِ سلیماں کا کیا کریں ہم دولتِ دمشق و خراساں  کا کیا کریں ہوں لاکھ مہربان بہاریں  گلاب پر اندیشہءِ فراقِ بہاراں کا کیا کریں توبہ کا در بھی بند ہے اور مے کدہ بھی بند کوئی بتائے نفسِ پشیماں کا کیا کریں تم بھی نہیں ہو سایہءِ دیوار بھی نہیں […]

نظم

چھونا حرام ہے : نواز انبالوی

اب جو تاریک راتیں ہیں سہہ لو اس بے نام سے ہجر کو تم کہ تمہارا مقصود ابھی گھروں میں ٹھہرنا ہے گھر گھر یہ پیغام پہنچانا ہے کہ گھروں سے باہر کے راستے قدر تاریک ہیں اس تاریکی سے باہر وبا کا جہان ہے کوئی مر جائے تو چھوا جا نہیں سکتا جاں باز […]

تنقید

وبائے عام اور اردو ادب ۔۔۔ ایک جائزہ (۱) : خیال نامہ

  ادب تنقید حیات ہے۔۔ادب کی اس تعریف کو مشرق و مغرب میں ادب کی مقبول و معقول تعریف کہا جائے تو ہم شعر و ادب میں تاریخی سانحات کا عکس بھی دیکھ سکتے ہیں۔۔ وبائے عام بھی شعری و نثری ادب کا موضوع ہے۔۔جس کی مثالیں دنیا کی بڑی زبانوں کے قدیم و جدید […]

کالم

اے رحم والے رحیم! : ریاض احمد احسان

لاریب! جب قدرت کا دست عطا فیاضی پر آمادہ ھو جائے تو سیاہ و بے آب و گیاہ پتھر کے سینے سے پھول کھلتے ہیں— بنجر پہاڑوں کی کوکھ سے قلقل کرتے چشمے پھوٹتے— دشت سے زم زم جاری ھوتا اور صحراؤں کے درمیان سر سبز و شاداب وادیوں کا ظہور عمل میں آتا ھے- […]

نظم

جانِ قرنطینہ : ڈاکٹرمعین نظامی

اے جانِ قرنطینہ، جانانِ قرنطینہ اے روحِ مسیحائی، ایمانِ قرنطینہ اس کلبہء احزاں میں اک شمع فروزاں ہے یعنی تری چاہت ہے سامانِ قرنطینہ دل دست و گریباں ہو کہتا ہے یہی مجھ سے کیا مَیں ہی لگا تم کو شایانِ قرنطینہ آنکھوں سے کہو جا کر فی الوقت یہ بہتر ہے ہم پیشِ نظر […]

نظم

کرونا وائرس کے بعد : ڈاکٹرستیہ پال آنند

وہ جو ہر روز اپنی کھڑکی سے دیکھتا ہے کہ دور سے کوئی راہرو آئے، اور وہ اس کو گھر میں مدعو کرے، محبت سے بیٹھ کر گفتگو کرے، اس کو اس حقیقت کا کوئی علم نہیں؟ شہر کی موت ہو چکی، اور وہ اپنی کھڑکی سے جھنکنے والا اک اکیلا ہے ساری دنیا میں […]

نظم

خدائے برتر : یونس خیال

خدائے برتر ! یہ کیاہواہے کہ تیرے نائب کی بستیوں میں عجیب کہرام سامچاہے ؟ سبھی گھروں میں چھپے ہوئے ہیں ڈرے ہوئے ایک دوسرے سے یہ سوچتے ہیں گھروں میں بیٹھے توبھوک ہم سب کو مار دے گی گلی میں نکلے تو وینٹی لیٹر نہیں ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدائے برتر ! یہ تیرے نائب کے علم […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

یہ محبت عجیب جذبہ یے زندہ رکھ رکھ کے مار دیتا ہے میری کھڑکی میں جو ستارا ہے کیا محبت کا استعارا ہے شکر کرتی ہوں نام لے کے ترا تو نے دل کو گداز رکھا ہے دل کی تختی پہ اب کے لکھا ہے نام تیرا بہت ہی اچھا ہے میرے ہاتھوں میں سبز […]

کالم

لاکڈ ڈاون آدمی کی ڈاٸری : اقتدار جاوید

پیش نوشت; چه آغوش است یارب !موجه ی دریای رحمت را که  هر کس  ره ندارد هیچ سو ، سوی تو می آید (بیدل) "یا رب ! (تیرے)دریاے رحمت کی موج کی کیا آغوش ھے کہ جس کسی کو کہیں راستہ نہ ملے وہ تیری(ھی) جانب آٸے ”   آج اتوار ہے، باٸیس مارچ ہے […]