خالد ندیم شانی غزل

غزل : خالد ندیم شانی

ترے غرور کی تجھ کو کمائی دیتا ہوں اٹھا کے تجھ کو میں زعمِ خدائی دیتا ہوں پھر اس کے بعد مقدر کا فیصلہ کرنا لے اپنی ذات کی تجھ کو رسائی دیتا ہوں ادھورے پن کی اذیت بجا سہی لیکن میں آئینے میں مکمل دکھائی دیتا ہوں مری حیات کے ریشے بکھیر دیتا ہے […]

نظم

کوشش کرتے رہنا ہے : نوازانبالوی

مسلسل بارش کا شور ہے بجلیوں کی کڑک بھی ہے اگرچہ گارے سے بھری سڑکیں ہیں راستے کئیں بند بھی ہیں لیکن کام کسی طور یہ بند ہو نہیں سکتے سب اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں بارش کے شور میں ایک شور اس کارواں کا بھی ہے جو بھوک کے نشے کی خاطر […]

کالم

حکمِ الہی ، سفاری پارک میں موت اور مٹِیّ شِٹیّ : اقتدار جاوید

  پیش نوشت; فرضی بھی نہیں اور خیالی بھی نہیں ہے وہ شکل کوٸی بھولنے والی بھی نہیں ہے ظفر اقبال چوہدری شجاعت حسین کا قول روٹی شوٹی کھاٶ ِمٹّی ِشٹّی پاٶ ہمارے معاشرے کا سب سے زیادہ خوب صورت، بامعنی اور قابلِ عمل مقولہ ہے۔مقولے بھی اور ضرب الامثال بھی از خود جنم نہیں […]

غزل

غزل : انیس احمد

میں نے کب چاہا تھا لیکن آئی سلوٹ ماتھے پر وقت نے اپنے ہاتھوں آج بنائی سلوٹ ماتھے پر جب جوبن تھا مجھ پر تو سب آئینے تھے میرے ساتھ آج انہی نے ہنس کر مجھے دکھائی سلوٹ ماتھے پر اس دنیا میں ساتھ رہے ہیں میرے جو خوشحالی میں اب جو ہاتھ ملایا تو […]

غزل

غزل : عبدالباسط صائم

ایسا نہیں کہ ہجر نے مارا نہیں ہوا یوں ہے کہ دشتِ غم میں گزارہ نہیں ہوا مرشد تم ایسے شخص کو کہتے ہو کس طرح اک پل بھی جس نے دل میں گزارا نہیں ہوا منزل پہ آن کر بھی ۔۔۔ مقدر تو دیکھئے کندھوں سے ہم نے بوجھ اتارا نہیں ہوا اک بات […]

غزل

غزل : عطا ا لحسن

اِدھر فسردہ ہوں میں اور اُدھر وہ روتا ہے وہی ہوا ہے محبت میں جو کہ ہوتا ہے میں اس لیے ترا احسان مند ہوں مرے دل مرے کہے پہ تُو جذبوں کا بوجھ ڈھوتا ہے بھنور میں لاتا ہے عُجلت پسند ہونا بھی وگرنہ پانی فقط ناؤ کب ڈبوتا ہے اب آ گئے ہیں […]

حبیب جالب

میں نہیں مانتا : حبیب جالب

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی […]

تنقید

مسئلہ کشمیر اور ھمارے دانشور ادیب : پروفیسر فتح محمد ملک

صاحب طرز انشاءپرداز اشفاق احمد کے ایک افسانے کی مرکزی کردار مظلوم کشمیری لڑکی شازیہ اُردو کے نامور ادیبوں اور شاعروں کے پاس یکے بعد دیگرے جاتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کی خدمت میں کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کرتی ہے مگر سارے کے سارے ادیب کشمیریوں […]

غزل

غزل : محمودپاشا

وقت جاتا رہا ہے کل کل کا فیصلہ آ گیا ہے عادل کا کربھی سکتا ہوں میں اسے تقسیم آخری  واسرائے  ہوں  دل  کا تو نے رکھ دی ہے میرے سینے پر کیا کروں اب بتا میں اس سل کا میں تو رہتا ہوں آستینوں میں میں کہاں سانپ ہوں کسی بل کا جو ہے […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین

پاس رہتے رہتے کیسے ہم جدا ہوتے گئے دیکھتے ہی دیکھتے پھر نا رسا ہوتے گئے آنکھ بہتے پانیوں میں اک دیا بن کر رہی بھید سارے ایک دریا سے جدا ہوتے گئے پہلے شکوہ کر رہے تھے ہر گھڑی تم سے نیا پھر ہوا ایسے کہ خود سے ہم خفا ہوتے گئے چند گھڑیوں […]