غزل : غزالہ شاہین مغل
کاغذ پہ جھیل،جھیل میں کشتی رکھی ابھی اس پر سوار خواب ، ہوا لے اڑی ابھی میں نے ہوا میں ایک اشارہ کیا فقط بارش کہیں سے آ گئی اڑتی ہوئی ابھی آنکھیں مرے وجود کا حصہ نہیں رہیں دیکھی کھلی چراغ کی کھڑکی ابھی ابھی گلشن میں کچھ پرند ہیں پچھلی بہار کے پچھلی […]









