غزل
شاعرہ : عذراناز یہ مت سوچو تھوڑے سے کیا بنتا ہے قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے پودے جیسا اس کو سینچنا پڑتاہے ایسے تھوڑی رشتہ گہرابنتا ہے کتنے خاکے ذہن میں بنتے مٹتے ہیں پھر کوئی دھندلا سا چہرہ بنتا ہے دیکھ کسی سے کوئی بھی امید نہ رکھ اس دنیا میں کون […]









