Poetry غزل

غزل


شاعر : خورشید ربانی
میں ایک پھول سیر کیا اُس کے باغ میں
پھر چل پڑی تھی تیز ہوا اُس کے باغ میں
جھونکا ہوا کا سبز رگیں توڑتا نہ ہو
آتی ہے سسکیوں کی صدا اُس کے باغ میں
آنکھیں نہ تاب لائیں وگرنہ مرے لیے
کیا کیا طلسمِ رنگ کھلا اُس کے باغ میں
اک دن تو کوئی ایسی ہوا اِس طرف چلی
وہ مجھ میں کھل اٹھا،میں کھلااُس کے باغ میں
بے پردہ دشت میں ہے شفق رُو کہ آج کل
پھرتا ہے کوئی آبلہ پا اُس کے باغ میں
مجھ کو رلاتا رہتا ہے اب بھی روش روش
سبزہ جو پائمال ہوا اُس کے باغ میں
آسودگی ِ دیدہ و دل ہی سے کام تھا
خورشید جتنی دیر رہا اُس کے باغ میں

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں