سلسہ جات

کُچھ کھٹی میٹھی یادیں (۵)

  • اگست 4, 2019
  • 0 Comments

از: نیلما ناھید درانی فلسطین کا سمیع اور بندیا کی دلدار بھٹی سے لڑائی۔ میں جب بھی ہوسٹل سے نکلتی مجھے ایک ہی خوف ھوتاکہ کہیں سمیع نہ دکھائی دے۔ان دنوں نیوکیمپس بوائز ھوسٹل نمبر 1، غیر ملکی طلبا اور گرلز ہوسٹل نمبر 1،غیر ملکی طالبات کے لیے مخصوص تھے۔ فلسطین، اردن، قطر، سعودی عرب، […]

Poetry غزل

غزل

  • اگست 3, 2019
  • 0 Comments

 شاعرہ : نادیہ عنبرلودھی سیم وزر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میں کسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میں مکتبِ عشق سے وابستہ ہوں کافی ہے مجھے داد ِ غالب ، سند ِ میر نہیں چاہتی میں فیض یابی تری صحبت ہی سےملتی ہےمجھے کب ترے عشق کی تاثیر نہیں چاہتی میں قید اب وصل […]

Poetry نظم

کمرہ

  • اگست 3, 2019
  • 0 Comments

شاعر: راز احتشام میرے کمرے میں ہیں کچھ کتابیں پڑی بلکہ رکیے ، یہاں بس کتابیں نہیں، ان کے کردار ، ان کے مصنف ،یہاں کرسیوں پر مرے سامنے بیٹھے ہیں ان کو پڑھنا، سمجھنا، ملاقات ہے، ان ملاقاتوں میں کوئی ترتیب، آہنگ ، زمانی مکانی نہیں ( اور زمان و مکاں تو حقیقت نہیں) […]

متفرقات

فیس بُک کا’’عارضہ‘‘

  • اگست 3, 2019
  • 0 Comments

از: ناصرمحموداعوان ہمارے ایک جاننے والے فیس بک سپیشلسٹ ہیں۔۔۔۔ سپیشلسٹ یعنی معالج یا ماہر۔۔۔ فیس بک سے متعلقہ الجھنیں چٹکیوں میں سلجھادیتے ہیں۔۔۔ میرے ایک دوست کو فیس بک پر ایک "عارضہ” لاحق ہوا۔۔۔ وہ عارضہ، جس کا قانون شناس بو علی سینا بھی نہیں۔ جب حالت خراب زیادہ خراب ہوئی اور جان پر […]

Poetry غزل

غزل

  • اگست 3, 2019
  • 0 Comments

شاعرہ : نیلم ملک ﻣَﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺴﺨﯿﺮ ﮐﺮﻭﮞ، ﺗُﻮ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﺮﻭﮞ، ﺗُﻮ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧُﻮﺷﺒُﻮ ﮐﻮ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﮐِﯿﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺧُﻮﺷﺒُﻮ ﮐﻮ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﮐﺮﻭﮞ، ﺗُﻮ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﺘﺎﺏ ﺩﮐﻬﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﻣُﺠھ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺮﻭﮞ، ﺗُﻮ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﻝ ﺍﻭﻝ ﺧُﻮﺩ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ […]

Poetry غزل

غزل

  • اگست 3, 2019
  • 0 Comments

از: غلام حسین ساجد آنکھوں میں کوئی خواب نہ سر پر ردائے صبح یعنی ادائے فقر و غنا ہے ادائے صبح بڑھتی ہے روشنی نہ سمٹتی ہے روشنی رکھی گئی ہے کس کے بدن پر بنائے صبح باقی ہے میری آنکھ میں اک خوابِ خوش نما آتی ہے میرے کان میں اب بھی صدائے صبح […]

مزاح

برتھ کنٹرول

  • اگست 3, 2019
  • 0 Comments

    شاعر: دلاورفگار لیٹے ہوئے تھے ریل کے ڈبے میں اک بزرگ گویا کہ پوری برتھ وہی لے چکے تھے مول ٹوکا کسی نے ان کو تو کہنے لگے جناب نہرو نے کہہ دیا ہے کرو برتھ کنٹرول

افسانہ

مولسری کے پھول

  • اگست 3, 2019
  • 0 Comments

   ترجمہ : اخترشیرانی اُس دن کے بعد کتنی بہاریں آئیں اور چلی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! اُس وقت سے اب تک ہر بہار میں، جب بھی پھولوں کاموسم قریب آتا ہے اُس دن کے تاثّرات میری نگاہوں میں مجسّم ہو جاتے اور آنکھوں میں بے اختیار آنسوبھر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ! بہار یا، برسات کا آغاز تھا۔ […]