غزل
شاعر: علیم حیدر محبتوں میں مرا بخت نارسا بھی تھا وہ چارہ ساز مرا زخم دیکھتا بھی تھا ستم شناس مرے دکھ سے باخبر ہی نہیں وہ مہرباں جو کبھی مجھ سے آشنا بھی تھا مری مثال مجھے دے رہے تھے شہر کے لوگ پتا چلا میں کسی دور میں بھلا بھی تھا یہ ضبطِ […]
شاعر: فیض محمدصاحب تمہاری یادیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں میں بہت چاہتا ہوں مگر کم بخت وقت خود کو دہراتا ہی نہیں شہر کے لوگوں کی زباں سے اپنی جدائی کا قصہ ہی نہیں اترتا کچھ نشانیاں وصل کی سبھالے اک جستجوِ بے سود میں بدن جُتا رہتا ہے دن بھر شام جب بیلیں درختوں […]
از: صائمہ نسیم بانو اے شجرِ زریں! کیا تم یہ سرود بھرے گیت سنتے ہو؟ جو فطرت گنگنا رہی ہے. سنو! یہ مجھ سے مخاطب ہے کہ اس نے تمہیں بحرِ ہند کی چھاتی پر ٹکے اک ننھے سے دیپ (جزیرہ) سری لنکا سے لے کر کشورِ محصور مملکتِ لاؤس تک اپنا سفیر چن لیا […]
از: سنیا منان گڈو کونسے اسکول جائے گا؟ گڈو کے اسکول کا مسئلہ آیا تو سمجھو صحیح معنوں میں دانتوں تلے پسینہ آگیا. رنگ رنگ کے سکول اور یہ لمبی لمبی فیسیں۔ اب ایسے میں ایک بھلامانس مڈل کلاس کا بندہ کون سا سکول چنے؟ اس پہ بیگم کا واویلا،سنیے جی شگفتہ نے اپنے بیٹے […]
از:غافر شہزاد ایصالِ ثواب کے لیے یوں تو لوگ لواحقین کے گھروں میں جاتے ہیں اور مرحوم کے بارے میں اچھی اچھی باتیں اور اس کے ساتھ گزرے خوش گوار لمحوں کی یادیں تازہ کرتے ہیں مگر جب کسی علمی و ادبی شخصیت کا انتقال ہو جاتا ہے، اس کے لیے مختلف علمی و ادبی […]
شاعر: قاضی ظفراقبال (والدہ محترمہ کی وفات پر لکھی گئی رثائی نظم ) ہُوا پورا ہوا کا مدعا بھی بجھا وہ طاق میں جلتا دیا بھی تری قسمت میں تھی صدموں کی یورش تری فطرت میں تھے صبر و رضا بھی سکھائی زندگی کو وضع داری نبھائی تو نے ہر رسمِ وفا بھی ریا سے، […]
شاعر: معین نظامی خواب، خیال کے جنگل میں اک ہاتھی دانت کا تاج محل ہے صندل والی دیوی کا جو اندھی، گونگی، بہری بھی ہے دل کی بے حد گہری بھی ہے اُس کے گرد فصیلیں ہیں کچھ شیشے کی، کچھ سونے کی کچھ چاندی کی، کچھ ہیرے کی اُس جنگل کے اک ننگ دھڑنگ […]
از: ناصرمحموداعوان ہمارے پڑوس میں ایک اردو سپیکنگ بزرگ رہتےہیں۔ غالباً دلی سے تعلق ہے۔ اردو زبان کا چٹخارا لینے گاہے ان سے بات چیت کر لیتا ہوں۔ کل میں نے مزاج پرسی کی، ان کے پوتے کا حال پوچھا۔ کہنے لگے: "ناصر میاں کیا بتاوں، جب دیکھو، دنیا مافیہا سے بے خبر لیپ ٹاپ […]