فیض احمد فیضؔ کی غزلیں (۱)
۱۔ غزل ستم سکھلائے گا رسمِ وفا ، ایسے نہیں ہوتا صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا گنوسب حسرتیں جوخوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں مرے قاتل حسابِ خوں بہا ایسے نہیں ہوتا جہانِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں یہاں پیمانِ تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا ہراک شب،ہرگھڑی […]





