غزل : ناصر علی سید
شبِ فراق خیالِ وصال کم کم ہے یہ اور بات طبیعت بحال کم کم ہے جو ایک رسم چلی تھی مزاج پُرسی کی کبھی بہت تھی مگراب کے سال کم کم ہے نظرکے پاس مگر دل سے دُور تھا ایسا بچھڑنے والاہے لیکن ملال کم کم ہے بس اپنی دُھن میں […]
شبِ فراق خیالِ وصال کم کم ہے یہ اور بات طبیعت بحال کم کم ہے جو ایک رسم چلی تھی مزاج پُرسی کی کبھی بہت تھی مگراب کے سال کم کم ہے نظرکے پاس مگر دل سے دُور تھا ایسا بچھڑنے والاہے لیکن ملال کم کم ہے بس اپنی دُھن میں […]
چھڑ شہادت انگلیے کڈھ سُر کوٸی اکتاریا سن راتے دیے سپنیے تک سرگی دیا تاریا جھلمل شکل خیالویں جگمگ روپ نویکلا واہ پانی دیا چانناں واہ مٹی دیا گاریا ساڑ رگاں سب نیلیاں بال مواتے چونویں گال سریر کبیر نوں اندرو اندری پاریا مار چھٹا ہک زورواں پلک پلک تے لون دا اتوں مٹھیا چھالیا […]
رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا دلچسپ واقعہ ہے کہ کل اک عزیز دوست اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا کتنی سدھر گئی ہے […]
اس دنیا میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو آپ کو اتنی زیادہ پریشانی میں مبتلا کرے جتنا آپ کے اپنے خیالات کرتے ہیں۔دراصل آپ کی زندگی کی خوشیاں آپ کے سوچنے کے معیار پر منحصر ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اگر آپ امکانات پر توجہ دیتے ہیں تو آپ کو مزید پریشانیوں کا سامنا […]
ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بوتالیہ ان دنوں امریکا میں مقیم ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی پر مبنی تنظیموں میں فعال رُکن کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔اس وقت بھی وہ امریکا کے ”مذہب برائے امن“(Religion for peace)کے ادارے میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ […]
بہت چپ چپ سے گزرتے ان دنوں کی جھولی میں بیتے ہوئے کچھ اچھے وقتوں کی یادیں تو ہیں مگر آنے والے زمانے کے لئے سر ِ دست بجز غیر یقینی کے اور کچھ بھی نہیں ہے،یہ وبا کا موسم ہے اور دل میں جانے انجانے اندیشوں کی دھند گہری ہوتی جارہی ہے، کب کہاں […]
آج تنہا ہوں ابھی ابھی کھڑکی سے باہر دیکھا تو اسٹریٹ لائٹ میں کچھ لڑکے کھڑے تھے شاید گھر تنگ ھونے کی وجہ سے باہر سکون سے گپ شپ کر رہے تھے ۔سورج ڈوب گیا مگر اس کی گرمی کی حدت کم نہیں ھوئ ۔کالونی کی آدھی آبادی سو چکی تھی ۔ابھی چند گھنٹے بعد […]
میں اکثر رات رات بھر منتشر سوچوں کو مجتمع کرتا رہتا ہوں بہت سی سوچیں شرارتی بچوں کی طرح مسلسل ایک دوجے سے دست و گریبان رہتی ہیں ایک یدھ کا سماں ہوتا ہے لفظ منہ بسورے خاموشی سے سوچوں کی دھینگا مشتی دیکھتے رہتے ہیں نیلگوں آسمان پر کبھی کبھی بادل کا کوئی آوارہ […]
اکادمی ادبیات کی چھپی ہوئی ضخیم کتاب ’’مزاحمتی ادب ۔اردو‘‘، شاید جناب ماجدؔ سرحدی کے توسط سے مجھ تک 1996 میں پہنچی تھی۔ اس کتاب کے مختصر پیش لفظ میں فخر زماں صاحب نے تحریر کیا تھا۔ ’’1977 ٔ کا مارشل لا اور ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت ہماری قومی تاریخ کے دو ایسے بڑے […]