تو پھر میں نظم لکھتا ہوں : یوسف خالد
میں اکثر رات رات بھر منتشر سوچوں کو مجتمع کرتا رہتا ہوں بہت سی سوچیں شرارتی بچوں کی طرح مسلسل ایک دوجے سے دست و گریبان رہتی ہیں ایک یدھ کا سماں ہوتا ہے لفظ منہ بسورے خاموشی سے سوچوں کی دھینگا مشتی دیکھتے رہتے ہیں نیلگوں آسمان پر کبھی کبھی بادل کا کوئی آوارہ […]






