تنقید

حفیظ جالندھری کی شاعری۔۔(یہ نصف صدی کا قصہ ہے!) : رضوان احمد

ابو الاثرحفیظ جالندھری پاکستان کے قومی شاعر تھے۔ مگر ان کی مقبولیت بھارت میں کم نہیں تھی۔ تقسیم ملک سے قبل ہی وہ اپنی ادبی حیثیت منوا چکے تھے۔ ان کی دوسری شناخت ”شاہنامہ اسلام“ کے تناظر میں اسلامی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا شعری حوالہ ہے۔ انہوں نے ثقافتی اکتساب کے حوالوں سے اعلیٰ […]

نعت

نعت : مقصودعلی شاہ

درود  پڑھ کر اُجال  لیں گے  جواب  سارے اِس ایک تدبیر سے جُڑے ہیں حساب سارے بس ایک شاخِ گلِ ثنا کی طلب تھی مہکی صبا نے دامن میں بھر دیے ہیں گُلاب سارے گئے زمانوں کی اوٹ سے دل دہل رہے تھے ترے کرم سے ہی ٹل گئے ہیں عذاب سارے یقیں نے شب […]

تنقید

آبروئے غزل ۔۔۔ خمارؔ بارہ بنکوی : اختر جمال عثمانی

خمارؔ بارہ بنکوی کے قریب بیٹھنے اور انکا کلام سن نے کی سعادت خاکسار کیلئے خوش نصیبی کی بات رہی ہے۔ زیادہ خوش نصیب اور مقرب وہ لوگ سمجھے جانے چاہئے جنہوں نے خمار صاحب کی زبان سے ایسے الفاظ بھی سنے ہیں جن کے بارے میں جاسوسی ادب کے مشہور مصنف ابنِ صفی کا […]

کالم

چراغ ڈھونڈ نے نکلوں تو صبح ہو جا ئے : ناصرعلی سید

اب تو جیسے ہماری مجلسی زندگی کو خیال و خواب ہوئے ایک یگ بیت گیا ہے،کیفی اعظمی نے کہا ہے کہ آج سو چا تو آنسو بھر آئے مدّ تیں ہو گئیں مسکرائے بے تکلف دوستوں کے ساتھ گزرا ہوا وقت ہمیشہ توانائی بحال کرنے کا بہانہ ہوا کرتا ہے لیکن اب کے ہم سب […]

نظم

دعا : سعیداشعر

مولا! اب دکھ میرے بس سے باہر ہے دم گھٹتا ہے انکھوں کا پانی بے وقعت ہے میرے فریادی لفظوں کو شاید سیدھا رستہ بھول گیا ہے کھڑکی میں تاریکی بیٹھی ہے کوئی نیکی کوئی صدقہ جگنو بننے کے قابل نہیں ہے اک جھوٹا سجدہ میرے ماتھے سے چپکا ہے اس کو روشن کر دے […]

تراجم

عالمی ڈرامے کے اُردو تراجم : پروفیسرمجاہد حسین

’ایک سدا بہار آدمی‘دراصل ایک قتل کی رُوداد ہے جو رابرٹ بولٹ کی تخلیق ہے۔ پروفیسر ظفر المحسن پیرزادہ اس کے مترجم ہیں۔ ادارہ تالیف و ترجمہ جامعہ پنجاب لاہور سے جنوری ۲۰۱۳ء میں یہ کتاب منظر عام پر آئی۔ اس کا انتساب فاضل مترجم نے سابق وائس چانسلر جامعہ پنجاب ڈاکٹر مجاہد کامران کے […]

تنقید

ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۲۳)

بس کہ روکامیں نے اورسینے میں ابھریں پے بہ پے میری   آہیں   بخیہ ء چاکِ  گریباں   ہو   گئیں غالبؔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند ’’ آہ‘‘ یعنی اک تنفس ، ریحِ تر، یا سانس کا تَف مستتر، مستور ہے یہ، چھو نہیں سکتے اسے ہم ’’بخیہ ٗ چاک ِگریباں‘‘ ، لجلجا، ڈھیلا ، ولیکن روبرو، مشہود […]

کالم

‏‏‏‏‏‏‏‏شخصی ترقی کی را ہیں :ڈاکٹر اسد مصطفیٰ

اس زندگی کا مشکل ترین سوال انسان کی اپنی آگاہی اور تفہیم سے متعلق ہےاور یہ سوال جتنا مشکل ہے،اس کا جواب حاصل کرنا،اتنا ہی ضروری ہے۔کیونکہ جب تک انسان اپنے آپ کو نہیں پہچانتا،اپنی خامیوں اور غلطیوں پر بھی اس کی نگاہ نہیں جاتی۔اسی سوال کو لوگوں کی طرف سے بہت آسان بھی سمجھا […]

غزل

غزل : ازور شیرازی

وبا کے خوف سے جاری ہے کال جینے کا ارادہ پھر بھی رکھو اب کے سال جینے کا میں مانتا ہوں کہ ہر سو ہے موت کا منظر کسی طرح سے تو رستہ نکال جینے کا یہ سوچ کر ہی غلامی کو رد کیا میں نے کسی کے ذہن میں آئے خیال جینے کا عذابِ […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

صرف  کافی نہیں  محبت   بھی چاہئیے اس میں کچھ توشدت بھی جان  لیوا  ہر  ایک  پل  میرا روٹھنا تیرا  اور  الفت  بھی جب سے آہوں کا دل بنا مدفن کانپ اٹھّے پہاڑ، پربت بھی تجھ سے جھگڑے کا ہیں سبب دونوں تیری مصروفیت بھی عجلت بھی لاکھ جھنجھٹ ہیں جیتے جی لاحق چین دے پائے […]