افسانہ

حرمت : فریدہ غلام محمد

مجھے اکثر پتہ نہیں چلتا کہ کون آیاہے اور کون گیا ۔میں محفلوں میں کم ہی جاتا ھوں ۔بزنس میں وقت نکالنا بہت ہی مشکل ھوتا ھے ۔اب بھی ولیمے میں گیا ھوا تھا اور دوست کے اصرار پر مگر بےدلی سے بیٹھا تھا ۔اچانک ایک حسین چہرہ نظر آیا ۔مجھے یہ تو نہیں معلوم […]

افسانہ

خوش بخت : فریدہ غلام محمد

"عورت بےوفا نہیں ھوتی دراصل جس مٹی سے اس کا خمیر بنتا ھے اس میں مٹ جانے کا عنصر موجود ھوتا ھے ۔وہ مٹی ھو جاتی ھے مگر جس کھونٹی سے باندھ دیا ۔اس کی رسی کھول بھی دو وہ وہاں سے نہیں ہلے گی۔” خوش بخت نے میرے سامنے چائے اور سگریٹ کی ڈبیا […]

کالم

بخیہ ادھیڑ : سعید اشعر

اللہ بس باقی ہوس۔ مجھے لگتا ہے جلد ہی میرے دو چار دوست مجھ سے خفا ہونے والے ہیں۔ ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ کیا ان کے بلاناغہ آنے والے شعری فتووں سے ابھی تک میں نے کسی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بالکل بھی نہیں۔ آج کل شعر اور نقدِ شعر پر بات […]

افسانہ

اپاہج :فریدہ غلام محمد

"اماں شیشے کی الماری میں رکھی کتابوں پر بھی کپڑا مارنا نجانے دھول اندر کہاں سے گھس جاتی ھے ” فریدہ نے جاتے جاتے اسے تاکید کی ۔وہ جانتی تھی یہ دھول تو شاید عرصہ دراز سے کتابیں بند رہنے سے پڑی ھے مگر کام کرتی تھیں ۔زبان سے کیا کہتیں ۔ آج پھر نام […]

بک شیلف

’’طلب کے لمحے‘‘ از ڈاکٹر زاہد منیر عامر : پروفیسرمجاہدحسین

اُردو کے مشہور محقق، ادیب، شاعر اور معلم پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ دبستانِ لاہور کے علمی اور ادبی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایشیا کی سب سے بڑی درس گاہ جامعہ پنجاب میں بطور پروفیسر (اردو زبان و ادب) اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہے […]

نظم

عنکبوت : سعید اشعر

کہتے ہیں جب مکڑی کے بچے ہو جاتے ہیں وہ اپنے جیون ساتھی کو مار کے جالے سے باہر پھینکتی ہے "سب سے بودا (کمزور) گھر مکڑی کا ہے” لحظہ لحظہ وقت بدلتا ہے بچے بالغ ہو جاتے ہیں اب وہ مل کے اپنی ماما کو مار کے جالے سے باہر پھنکتے ہیں "سب سے […]

غزل

غزل : ڈاکٹرشاکر حسین

کچھ ہیں رشتے مگر ادھورے ہیں اِن امیروں کے گھر ادھورے ہیں تم میرے ساتھ جب نہیں ہوتے خوشبوؤں کے سفر ادھورے ہیں کس نے شاخوں کو نوچ ڈالا ہے پھول، کلیاں، شجر ادھورے ہیں خواب جن کو اذییتیں بخشیں اُن کے شام و سحر ادھورے ہیں زندہ لاشیں ہیں چلتی پھرتی سی جسم بونے […]

تنقید

”بارش بھرا تھیلا“ پر تنقیدی نظر : ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

گزشتہ کچھ عرصے میں مسعود قمرنے نثری نظم کے معاصر منظر نامے میں جس رفتار سے اپنا نام اور مقام بنایا ہے وہ قابلِ داد ہی نہیں قابلِ تقلید بھی ہے۔انھوں نے اپنی نظموں میں خاص طرز کے جرأتِ اظہارسے،سماجی کج رویوں،بے اعتدالیوں اورناہمواریوں کو جس طرح بے باکی سے نمایاں کیا ہے،وہ نظم کے […]

غزل

غزل : نوید صادق

قصر جلا  دیے گئے  ، تخت  گرا دیے گئے اور جو مانتے نہ تھے، رہ سے ہٹا دیے گئے عہد غلط نہ تھا مگر، عہد کے لوگ تھے غلط اُلٹے قدم چلے سدا ، اُلٹے اُٹھا دیے گئے ایک کی لَو حریف تھی، ایک کی ضَو حلیف تھی ایک ہی شک میں سب کے سب، […]

غزل

غزل : خالد علیم

ترے لیے کبھی وحشت گزیدہ ہم ہی نہ تھے وہ دشت بھی تھا، گریباں دریدہ ہم ہی نہ تھے لُٹے پٹے ہوئے اُن راستوں  سے  آتے  ہوئے یہ سب زمین تھی، آفت رسیدہ ہم ہی نہ تھے ہمارے ساتھ کِھلے، ہم پہ مسکرانے لگے تھے تم بھی ایک گلِ نودمیدہ، ہم ہی نہ تھے تم […]