نعت : حفیظ تائب
اک محمدؐ جگ دا والی نسلوں اچاّ ، وصفوں عالی خُلق پیار جہدا انمّلا مہرِ مروّت جہدی نرالی راکھا کمزوراں دے حق دا عدل انصاف دے باغ دامالی جس نے کفر ہنیری اندر حق سچ والی بتی بالی جس دے خدمت گارفرشتے جس دے در سلطان سوالی جِنّاں […]
اک محمدؐ جگ دا والی نسلوں اچاّ ، وصفوں عالی خُلق پیار جہدا انمّلا مہرِ مروّت جہدی نرالی راکھا کمزوراں دے حق دا عدل انصاف دے باغ دامالی جس نے کفر ہنیری اندر حق سچ والی بتی بالی جس دے خدمت گارفرشتے جس دے در سلطان سوالی جِنّاں […]
ڈاکٹراسد مصطفیٰ کشمیر کی پکار (سید علی گیلانی کے خط کے تناظر میں) میں کشمیر ہوں، دکھ اور، د رد کا مارا، اک کشمیر غربت کی تصویر،ظلمت کی جاگیر پاؤں میں میرے، ہے بیڑی اور ہاتھوں میں زنجیر میں ہوں اک کشمیر ظالم نے اس جسم پہ میرے،سارے تیر چلائے زخمی میرا سینہ سارا،روح بھی […]
کیا خبر تھی فصل گل کی آرزو کرنے کے بعد عمر بھر سہنا پڑے گا زرد موسم کا عذاب (یوسف خالد) پاکستانی معاشرہ اس وقت ان تمام بد اعمالیوں کی سزا بھگت رہا ہے-جن کا ارتکاب ہم نے گزشتہ سالوں میں کیا-قیام پاکستان کے بعد پہلے دس پندرہ سال سمت کا تعین کرنے کے لیے […]
شاہد جان اپنی آواز کو کھوجتے کھوجتے میں کہاں آ گیا بولتے بولتے جانےکس وقت جاگاخیالوں سے میں جانے کب سوگیا سوچتے سوچتے ان اداوُں پہ یہ جان بھی جائے گی دل چلا ہی گیا روکتے روکتے ہجر کی رات بھی کتنی رنگیں ہوئی اس کی یادوں کے لب چومتے چومتے جتنی گرہیں لگا کر […]
ڈاکٹرناصر عباس نیر ّ اگر ایک آدمی اپنی آرا کی خاطر خطرہ مول لینے پر تیار نہیں تو اس کی آرا معقول نہیں یا پھر وہ خود معقول نہیں۔ (ایذر اپائونڈ) اردو ادب میں متنازع کتابوں اور تحریروں کا سرمایہ کچھ زیادہ نہیں۔لے دے کے زٹل نامہ ،مرزا شوق کی مثنویاں،جان صاحب اورسعادت یا خان […]
گھر میں جو بھی کپڑے بوسیدہ ہو جائیں ان کا پوچا بنتا ہے صافی بنتی ہے ان سے گھر میں ڈسٹنگ کی جاتی ہے بچوں کا بچھونا یا فٹ پیڈ بنایا جاتا ہے ورنہ بستی کے مسکینوں کے کام آتے ہیں میں کپڑے کا وہ ٹکڑا ہوں جو باورچی خانے میں اک جانب لاپرواہی سے […]
محمدجاویدانور کبھی جا کر کوئی آیا ہے اے دل جو تُم اُس کا بُلانا چاہتے ہو کبھی پلٹا ہے کوئی اُس نگر سے جہاں سے اُس کو لانا چاہتے ہو چلو چھوڑو بھُلا دو ! بھُول جاؤ اگر سچ مُچ بھُلانا چاہتے ہو وگرنہ روز کا رونا ہےپگلے تو کیوں رونا رُلانا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرحت عباس شاہ تم جب ہم کو اتنا سستہ بھول گئے ہم بھی تمہیں پھر جستہ جستہ بھول گئے کتنی اچھی چائے تھی تیرے ہاتھوں کی کتنا تھا وہ بسکٹ خستہ بھول گئے جب تو کزن کی باتیں سنا کر ہنستی تھی میں بھی مجبورا” تھا […]
سب بھر چکے ہیں زخم نشاں اب نہیں رہا آنکھوں میں حسرتوں کا جہاں اب نہیں رہا سب دھیرے دھیرے جاچکے ہیں چھوڑکرمجھے آباد پیار کا وہ مکاں اب نہیں رہا یکلخت اس نے پھیر لیں آنکھیں نہ پوچھئے شاید کہ پیار کا وہ سماں اب نہیں رہا مجھ میں سمٹ […]
محمد جاویدانور یہ کہانی ادبی ناقدین کے معیار پر پُورا نہیں اُترے گی۔ یہ سادہ لوگوں کی سادہ سی کہانی ھے, جو سادگی سے بیان ھوگی۔ یہ میرے اُس قاری کے لئے ھے جو اس میں تشبیہیں ، استعارے ، دھکے سے ڈالی گئی ثقیل ضرب الامثال , اصلی نقلی فلسفے اور چربہ منطق نہ […]