نظم

تیرا رقص دکھائی دے گا : سعیداشعر

  • نومبر 19, 2019
  • 0 Comments

ہم دونوں صحرا کی وسعت میں اک دوجے سے بچھڑ گئے تھے تپتی ریت پہ چلتے چلتے پاؤں جھلسا گئے ہیں سورج کی کرنیں آنکھوں کا رس چوس رہی ہیں منہ میں کڑواہٹ کے کانٹے چبھنے لگے ہیں ریت کی ضربوں سے ہونٹوں کی رنگت بنجر مٹی کا عکس گالوں پر سوکھی ندیا کے آثار […]

نظم

محبت : میرا جی

  • نومبر 19, 2019
  • 0 Comments

میرا جی زرد چہرہ شمع کا ہے اور دھندلی روشنی راہ میں پھیلی ہوئی، اک ستون آہنی کے ساتھ استادہ ہوں میں اور ہے میری نظر ایک مرکز پر جمی، آہ ! اک جھونکا صبا کا آ گیا باغ سے پھولوں کی خوشبو اپنے دامن میں لیے ساری بستی نیند میں بے ہوش ہے راہ […]

ديگر

دہشت گرد ۔۔۔ انشائیہ : اکبرحمیدی

  • نومبر 19, 2019
  • 0 Comments

اکبرحمیدی گذشتہ کچھ عرصے سے مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے خلاف قومی اور بین الاقوامی طور پر دہشت گردی ہو رہی ہے !کئی ایک شہروں سے کلاشنکوفوں کے چلنے اور بموں کے دھماکوں کی آوازیں مَیں سنتا رہتا ہوں۔ سمندر پار سے بھی ایسی ہی خوفناک آوازیں میری سماعت کا حصّہ بن رہی […]

ایجادات

ویو آف آٹو میشن کی خانہ ویرانی : ڈاکٹراسد مصطفیٰ

  • نومبر 18, 2019
  • 0 Comments

اگر آپ کے دفتر کی چھٹی ہوئی ہے اور اپنی ہوائی یا زمینی گاڑی میں بیٹھ کر ”ہوم“ کا لفظ کہتے ہیں اور وہ گاڑی کچھ دیر میں خود بخود آپ کے گھر کے دروزاے پر جا رکتی ہے تو آپ سمجھ لیں کہ آپ ایج آف آٹو میشن میں پہنچ چکے ہیں لیکن اگر […]

کالم

بخیہ اُدھیڑ ۔۔۔ کالم : سعید اشعر

  • نومبر 18, 2019
  • 1 Comment

 ’’ علامے ‘‘ میں اور قریشی صاحب بلاناغہ رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی پر نکلتے ہیں۔ گزشتہ رات بھی حسبِ معمول ہم الخبر کارنیش پر ساتھ تھے۔ وہ کسی موضوع پر سیر حاصل تبصرہ فرما رہے تھے۔ میں ایک اچھے سامع کی طرح بیچ بیچ میں "ہوں” اور "جی جی” کر رہا تھا۔ […]

غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

  • نومبر 18, 2019
  • 0 Comments

کم ملے تو عطا کو روتے ہیں پھر گنوا کے انا کو روتے ہیں موت آنی ہے آ کے رہنی ہے کس لیے ہم قضا کو روتے ہیں سر پہ رکھ کر گناہوں کی گھٹڑی کون ہیں جو دعا کو روتے ہیں چھین کر دوسروں کی سب خوشیاں اب وہ اپنی خطا کو روتے ہیں […]

نظم

مکالمہ : یوسف خالد

  • نومبر 18, 2019
  • 0 Comments

کہا میں نے کہ جو تم سوچتے ہو اور جو محسوس کرتے ہو اسے لفظوں کی صورت کیوں لب اظہار تک آنے نہیں دیتے ؟ کہا اس نے کبھی دیکھا ہے تم نے پھول کیسے بات کرتے ہیں ؟ کبھی شبنم کی بوندوں سے کبھی رنگوں سے، خوشبو سے، کبھی باد صبا سے بات کی […]

افسانہ

نمازِ قصر: محمد حامد سراج

  • نومبر 17, 2019
  • 0 Comments

محمد حامد سراج ڈھولک کی تھاپ پر لڑکیاں رخصتی کا گیت گا رہی تھیں ………! کِناں جمیاں تے کِناں لے جانڑیاں (کس گھر جنم لیا اور کون ہمیشہ کے لیے لے جائے گا) میں لڑکیوں کے جھرمٹ میں گیت کے بول سن کر ایک لمحے کو اداس ہوئی اور کسی بہانے کمرے سے نکل کر […]