تیرا رقص دکھائی دے گا : سعیداشعر
ہم دونوں صحرا کی وسعت میں اک دوجے سے بچھڑ گئے تھے تپتی ریت پہ چلتے چلتے پاؤں جھلسا گئے ہیں سورج کی کرنیں آنکھوں کا رس چوس رہی ہیں منہ میں کڑواہٹ کے کانٹے چبھنے لگے ہیں ریت کی ضربوں سے ہونٹوں کی رنگت بنجر مٹی کا عکس گالوں پر سوکھی ندیا کے آثار […]


