غزل : سعید اشعر
گل عذاروں میں بے کلی کیسی اک مسافر سے برہمی کیسی تُو نے آنکھیں تو بیچ ڈالی ہیں تیرگی کیسی، روشنی کیسی چاند ہاتھوں میں آ گیا میرے زرد پتّوں پہ چاندنی کیسی اپنے اندر بھی میں نہیں موجود تیرے در پر سو حاضری کیسی تم خداؤں کی بات کرتے ہو اس خدائی میں بندگی […]







