غزل : واصف حسین واصف
واصف حسین واصف مستقل اک درد سابہتا ہوا مجھ کو یہ دریا لگا ترسا ہوا
اردو میں کلاسیکیت اور جدیدیت کے مباحث ( مابعد نوآبادیاتی تناظر) (حصہ دوم ) اردو میں کلاسیکیت کا ڈسکور س ایک طرف اس ثنوی رشتے کی مدد سے خود کو واضح کرتا ہے جو اس نے جدیدیت سے قائم کیا ہے؛ کلاسیکیت کے دلائل کی سب آگ جدیدیت کی غیر مصالحانہ مخالفت […]
تہی آغوش گلیوں میں پِھرا ہوں اگر مَیں چار دن بھی جی سکا ہوں مجھے منظور ہے تیرا نہ ہونا ترے ہونے سے یک سر بھر گیا ہوں اُدھر جاؤں، نہ جاؤں، کچھ دنوں سے مَیں بس اک کشمکش میں مبتلا ہوں خدا جانے، خدا سے چاہیے کیا؟ مَیں اکثر معبدوں میں گونجتا ہوں مرے […]
کانْواں باز نوں پھٹّڑ کیتا گِرجھاں کھاہدا مور چِیتے نوں چِت کیتا کھوتے ایڈا لایا زور اُتّوں اُتّوں ہسّن والے ڈِھڈھ وچ رکھیا کھور کالے سَپ دی شُوکر سن کے گِدڑاں پایا شور لومبڑ پَگّڑ بدّھی پھردا تَکّو ایہدی ٹور اِس بگھیاڑے راکھی کرنی؟ بھیڈاں لبّھو ہور ہور تے تیتھوں کجھ نئیں ہونا بَہہ کے […]
ذرا دیر ٹھہرو اے ننھے پرندو! کہ جس نے بھی سورج کو زنجیر ڈالی تمہارے پروں پہ ہے تیزاب پھینکا ہواؤں میں شامل کیا زہرِقاتل ابھی جان لیں گے ہماری تمہاری کئی سال پہلے کی یادوں کا منبع محلے کا وہ بوڑھا پیپل کہ جس نے تمہیں ۔۔۔۔۔ تپتی دھوپوں میں سایہ دیا تھا آندھیوں،بارشوں […]
خبر تحیر وقت سن تو نے میرے خدوخال کے نقش سے بجھائی آگ اپنے شکم کی اور میں سرد ہوں اب کسی سرد رت کی طرح شام کا ایک منظر کوئی برگ زرد چراغ آخر شب کسی سہمے ہوئے، سلگتے منظر کی تصویر ہوں میرے شانے بھی اب کچھ توانا نہیں ہاتھوں میں بھی سکت […]
دردِ فرقت کی یہ تاثیر کہاں تک پہنچیتم جہاں تھے مری آواز وہاں تک پہنچی عشق کی آگ جو اک خاص تپاں تک پہنچیکیوں نہ فریاد مری کوچہِ جاں تک پہنچی وحشتِ دل جو لیے کوچہِ دلدار گئیکہ بھلائی بھی مری میرے زیاں تک پہنچی لاکھ اے دوست بہانے تو بنا اب کیا ہےدل کی […]
آج تک یہی اپنے بڑے بزرگوں سے سنتے آیا ہوں کہ: "بیٹا! خوشامد سے بچو” پوچھیں کیوں؟ تو جھٹ سے اپنے بڑے بزرگوں کی ریت کی پاس داری بجا لاتے ہوئے گویا ہوں گے کہ: "خوشامد بری بلا ہے” لیجیے صاحب پھر کیا تھا۔ اقبال یاد آگیا کہ: "تمھیں آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو […]
گل عذاروں میں بے کلی کیسی اک مسافر سے برہمی کیسی تُو نے آنکھیں تو بیچ ڈالی ہیں تیرگی کیسی، روشنی کیسی چاند ہاتھوں میں آ گیا میرے زرد پتّوں پہ چاندنی کیسی اپنے اندر بھی میں نہیں موجود تیرے در پر سو حاضری کیسی تم خداؤں کی بات کرتے ہو اس خدائی میں بندگی […]
عادل یزدانی تیری گل جیویں چھَل ہِینے آں ساتھوں ٹل تیری دین سارے سَل مسئلہ دِل کوئی حل؟ ذَیقے دار چُپ دا پَھل جانا ای نال عمل سوچیں یار کَل دی کَل سُکّی نَیں نِکلی ڈَل وَلدی نئوں کیتی گَل مجنوں نال عادِل رَل ———————– ہَرہَر پَل رہو بےکَل وانگ چراغ توں وی بَل خطرہ […]