غزل : زہرا شاہ
یہ خود بہل جائے گی طبیعت کسی کی کوئی کمی نہیں ہے مجھے دلاسوں کی کیا ضرورت میری مصیبت نئی نہیں ہے سنا بہت تھا ہمارے قصے سبھی جریدوں میں چھپ چکے ہیں میں پڑھ چکی ہوں یہ سارے کالم وہ اک خبر تو لگی نہیں ہے یہ غم شراکت کا وہ ہی سمجھے جو […]
یہ خود بہل جائے گی طبیعت کسی کی کوئی کمی نہیں ہے مجھے دلاسوں کی کیا ضرورت میری مصیبت نئی نہیں ہے سنا بہت تھا ہمارے قصے سبھی جریدوں میں چھپ چکے ہیں میں پڑھ چکی ہوں یہ سارے کالم وہ اک خبر تو لگی نہیں ہے یہ غم شراکت کا وہ ہی سمجھے جو […]
جیسے کبھی دریا کے کنارے نہیں ملتے ایسے ہی تو جاں بخت ہمارے نہیں ملتے کھل جائے نہ تم پر یہ کہیں وصل کی خواہش ہم تم سے اسی خوف کے مارے نہیں ملتے جب ضبط کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں میری جاں آنکھوں کے کناروں کو کنارے نہیں ملتے اے دل ٫ تیری فریاد […]
رانا آصف ایک ماہرآرٹسٹ ہیں ۔ ان کے فن پاروں کی کشش دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور یہ فن پارے حقیقت کے قریب محسوس ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاد رہیں ہمارے یہ سینئر آرٹسٹ۔
No true King Poem by: Ahsan Iftikhar A true king, a hero bold A ruler just, a power old To him we bow, on our knees In him we trust, his wisdom indeed A kind soul, a raging warrior He is what his state shall need Courage and justice,true to creed A man like that,where […]
کچھ اس طرح سے عشق کے بیمار ہم ہوئے خود اپنی جان کے لئے آزار ہم ہوئے پہلے تو اس جہان سے اکتا گیا یہ دل پھر یوں ہوا کہ خود سے بھی بیزار ہم ہوئے خوشیوں کے تیر روک رہی ہے غموں کی ڈھال یوں زندگی سے […]
"میں دلدل میں ڈوبے سورج کی پرچھائیں ہوں نا محرم رشتے میرا آموختہ ہے کاغذ پر اصلی ہاتھوں سے جعلی مہریں ثبت ہوئی” "دیکھو بہنا مرشد کی خاموشی ٹوٹے گی آؤ لنگر کرتے ہیں اس کی برکت سے آنکھیں اور سینہ روشن ہوتے ہے سانس کی نالی کی جلن کم ہوتی ہے” باغ سےآنے والی […]
ڈاکٹرناصر عباس نیر ّ ’معنی نہ آئیں درک میں غیر از وجود لفظ‘ (قائم چاند پوری) ژاک دریدا (۱۹۳۰ء۔۲۰۰۴ء )نے ۱۰؍ جولائی ۱۹۸۳ ء کواپنے جاپانی دوست پروفیسر تو شہیکو ازتسوکے نام ایک خط لکھا۔زین بدھ مت کو ماننے والے پروفیسر ازتسو (۱۹۱۴ء۔۱۹۹۳ء)اسلام، تصوف اور فلسفے کے […]
ترجمہ : صفدربھٹی سورۃ الانعام آیات 31 بسم اللّہ الرحمن الرحیم 31. یقیناً نقصان ہوا ان لوگوں کا جنہوں نے اللّہ سے ملاقات کو جھٹلایا، پھر جب وقت اچانک آ پہنچا تو کہنے لگے ہائے افسوس کہ ہم نے اس بارے میں تقصیر کی، اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے ، […]
تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم تیرے چہرے کے سادہ سے اچھوتے سے نقوش میرے تخیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں تیری زلفیں تیری آنکھیں تیرے عارض تیرے ہونٹ کیسی معصوم انجانی سی خطا کرتے ہیں تیرے قامت کا لچکتا ہوا مغرور تناؤ جیسے پھولوں سے لدی شاخ ہوا میں لہرائے […]
"بابا جان” "جی بابا کی جان” "ڈر لگتا ہے” "دھی رانی ڈر کیسا دن روشن ہے رستہ اجلا ہے سارے تیرے اپنے ہیں” "بابا جان روشن دن میری آنکھ کا کانٹا ہے کوئی مجھ کو مجھ سے چھین رہا ہے میرے بدن پر یہ نیلے دھبے کیسے ہیں” "دھی رانی میں ہوں نا” دور سے […]