مقالاتِ حکمت : حضرت ابوانیس محمد برکت علی لودھیانویؒ
بشکریہ جناب ظہیرالحسن دل کواللہ کے ذکرسے معموررکھنا بہترین عبادت ہے ۔
بشکریہ جناب ظہیرالحسن دل کواللہ کے ذکرسے معموررکھنا بہترین عبادت ہے ۔
پیوند سے لپٹے ہوئے دلداری کے دھاگوں کے اک ایک بخیے سے رِستی کسک روٹھے محبوب کی سوالی نظروں کی طرح دیکھتی ھے- جذبے بغاوت پر آمادہ بھی ہیں لیکن—– اپنی ہی ذات کے طے کیے ھوئے ضابطے، قاعدے اور قوانین ُرک رُک کر ڈھارس بندھا رہے ہیں کہ دائروں کا یہ […]
میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوں لیکن اس میں کیا بات کہوں اک بات میں بھی سو باتیں ہیں کہیں جیتیں ہیں،کہیں ماتیں ہیں دل کہتا ہے میں سنتا ہوں من مانے پھول یوں چنتا ہوں جب مات ہو مجھ کو چپ نہ رہوں اور جیت جو ہو درّانہ کہوں پل کے پل میں اک […]
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں میں سب تری نذر کر رہا ہوں ، یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی روز یاد آئیں تو ایک اک حرف جی اٹھے گا پہن کے […]
ڈاکٹر انور سدید کا شمار اردو ادب کے ان ادباء میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کے ساتھ اپنی وابستگی کوعبادت کا درجہ دیا – اور پوری دیانت سے ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا -ان کی طبیعت میں بلا کا نظم وضبط ہے -انتہائی وسیع المطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ جس برق […]
تمھارا ہجر منایا تو میں اکیلا تھا جنوں نے حشر اٹھایا تو میں اکیلا تھا دیارِ خواب تھا، تم تھے تمام دنیا تھی کسی نے آ کے جگایا تو میں اکیلا تھا کوئی حسینی نہ نکلا مرے رفیقوں میں دیا بجھا کے جلایا تو میں اکیلا تھا تمھارا ہاتھ نہیں تھا وہ […]
دن آغاز ہُوا اک آوارہ دن آغاز ہُوا اک آوارہ پت جھڑ جیسا دن آغاز ہُوا لان میں دبکے، میپل کے بوسیدہ پتے اپنی مٹھی کھولتے ہیں جانے، کون زبان میں یہ کیا بولتے ہیں! میں تو اتنا جانتا ہوں عمر کی ڈھلتی دھوپ میں یادوں کی مٹّی بھی سونا لگتی ہے کوئی بتائے کون […]
میں اکثر موسم گرما کی راتوں میں باہر گھومنے نکل جاتا ہوں اور پتھروں کی نشو و نما کا مشاہدہ کیا کرتا ہوں میرا خیال ہے وہ یہاں صحرا کی گرم اور خشک ہوا میں کسی دوسری جگہ کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر پنپتے ہیں یا پھر نوجوان پتھر جو زیادہ فعال ہیں […]
وہ لکھتا ہے بہت بے ساختہ لکھتا ہے پھر لکھ کر مٹاتا ہے مٹا کر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے دل کی حالت کو عیاں ہونے سے روکا ہے اسے معلوم ہی کب ہے کہ جو دل پر گزرتی ہے وہ حالت چھپ نہیں سکتی اسے اظہار تک آنے میں کتنی دیر لگتی ہے […]
میرے ہاتھ سلامت ہیںآنکھیں روشن ہیںمیں پورے قد سے اپنے پیروں پہ کھڑا ہوںصبح سویرےچڑیوں کی چہکارکھڑکی کے رستےپھولوں کی آنے والی مہکاربادل کی اونچائی سےگرنے والی پانی کی پھوارسب میرے لیے ہیںمیں چاہوں تو اڑن کھٹولہ حاضر ہو جاتا ہےدودھ اور شہد کے چشمے جاری ہو جاتے ہیںمن اور سلوٰی نازل ہونے لگتا ہےمیری […]