میرے ساتھ بیٹھے تم :فیض محمد صاحب
ٹھنڈ سرد خانوں سےمنظروں پہ دُھند چھڑک رہی ہےبینائی اپنے سوا اپنی سمت سے ڈر رہی ہےبرف آلود سڑکوں پہ گاڑیاں سرک سرک کرجاں بچانے میں جُتی ہیںشیشوں پہ جمی سرد تہوں پہمیں تمہیں اور تم مجھےلکھ رہے ہووہ جذبے جنھیں زباں سےادا نہیں کیا جا سکتاسانسوں میں اترتی تمہاری خوشبواور ہونٹوں پہ جمی کافی […]


