غزل

غزل : زہرا شاہ

یہ خود بہل جائے گی طبیعت کسی کی کوئی کمی نہیں ہے
مجھے دلاسوں کی کیا ضرورت میری مصیبت نئی نہیں ہے

سنا بہت تھا ہمارے قصے سبھی جریدوں میں چھپ چکے ہیں
میں پڑھ چکی ہوں یہ سارے کالم وہ اک خبر تو لگی نہیں ہے

یہ غم شراکت کا وہ ہی سمجھے جو اس اذیت میں مبتلا ہے
تم اتنے مغرور اس لئے ہو تمہاری چاھت بٹی نہیں ہے

الگ الگ ہیں ہماری راہیں ہماری مشکل جڑی ہوئی ہے
مجھے مسافت کے ہیں مسائل اسے بھی منزل ملی نہیں ہے

تمہارا لہجہ تمہاری باتوں کا ساتھ دینے سے ڈر رہا ہے
یہ سب دکھاوا ہی کر رہے ہو تمہیں محبت ہوئی نہیں ہے

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں