انقلاب پسند : سعادت حسن منٹو
میری اور سلیم کی دوستی کو پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس زمانے میں ہم نے ایک ہی سکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا، ایک ہی کالج میں داخل ہوئے اور ایک ہی ساتھ ایف اے کے امتحان میں شامل ہو کر فیل ہوئے۔ پھر پرانا […]
میری اور سلیم کی دوستی کو پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس زمانے میں ہم نے ایک ہی سکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا، ایک ہی کالج میں داخل ہوئے اور ایک ہی ساتھ ایف اے کے امتحان میں شامل ہو کر فیل ہوئے۔ پھر پرانا […]
وقت گُزرتا جاتا ہے فاصلے بڑھتے جاتے ہیں پیار کے طاقت ور جذبے ٹھنڈے پڑتے جاتے ہیں یاد تو پھر بھی آتی ہے وقفے بڑھتے جاتے ہیں
برسات کے میٹھے موسم میں نئے خوابوں کا بانکپن لے کر بارش کی رم جھم رم جھم سے سورج کی نازک تھپکی سے پھولوں کے رنگ و بو سے مینہ کے مچلتے قطروں سے کوئل کی سریلی کوکو سے مینڈک کی تیکھی ٹر ٹر سے مٹی کی گیلی خوشبو سے سوچوں کو منقلب کر کے […]
ڈر ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں کوئی ذی روح جب اپنے وجود کو خطرے میں محسوس کرتا ہے تو یہ کیفیت اس پہ طاری ہوتی ہے جس کے تحت وہ تکلیف میں مبتلا ہونے لگتا ہے اور ساتھ ہی اس خطرے سے بچنے کی تدبیر کرنے لگتا ہے – انسان بچپن […]
ایک منظر نور کا تھا اس میں تھا میرا خدا عالم ِعین الیقیں، جی بھر کےتھا دیکھا خدا وہ مجھے جب دیکھتاہے میں سمجھ جاتا ہوں بات بولتا میں بھی نہیں اور بات ہے سمجھا خدا نور کے پیکر کا سوچا اور آنکھیں میچ لیں میں نے جو سوچا اسی جیسا تھا اَن دیکھا […]
کہیں سے میرے کانوں میں جو اک آواز آئی ہے کوئی گم گشتہ سرگوشی سماعت ڈھونڈتی ہو گی یہ اک آواز کا ٹکڑا پرانی گونج کا ہو گا ہہاڑوں کے کسی دامن میں گونجے ایک نغمے کا کوئی چھوٹا ” سا دو لفظی ” پرانی بازگشتوں کا پرانا ایک ” دو لفظی ” سماعت تک […]
بتِ کافر کو اب دیکھا نہ جائے مثالی حسن ہے اترا نہ جائے محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے بلانے پر وہ میرے آ نہ جائے جو خوابوں اور خیالوں میں بسا ہے گھڑی بھر کیوں اسے سوچا نہ جائے ہزاروں بار سوچا تھا بھلا دوں ارادہ پر یونہی بدلا نہ […]
نہیں دل سے ، زبانی ہورہی ہے جو ہم پر گل فشانی ہو رہی ہے وہاں اک مسکراہٹ ہے عقب میں جہاں پر نوحہ خوانی ہو رہی ہے یہیں سب کچھ بدلتا ہے رتوں میں کہاں نقلِ مکانی ہو رہی ہے جو بات انساں نہیں انساں سے کہتا فرشتوں کی زبانی […]
ترجمہ : صفدربھٹی سورۃ الانعام آیات29 تا 30 بسم اللّہ الرحمن الرحیم 29. اور وہ کہتے کہ بس یہی دنیاوی زندگی ہی ہے اور ہم اُٹھائے نہیں جائیں گے 30. کاش تو دیکھ سکتا کہ جب وہ اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے ، وہ پوچھے گا کیا یہ سچ نہیں ؟ وہ […]
سائنس و فلسفے کے لیے ماضی "استعمال شدہ” وقت ہے لیکن اہل دل کے لیے یہ ایک جادو بھری روح ہے۔۔ جس کی زنبیل میں حیرت کی روشنی ہمہ وقت مراقبے میں ہوتی ہے ماضی قدیم عمارتوں شعروں،افسانوں اور صوفیانہ اقوال کو اپنی روح کا لباس پہنا کر وقت کے حصار کو توڑ دینے پر […]