دسمبر : افتخاربخاری
اونچے نیچے مکانوں کی خالی منڈیروں پہ لاکھوں برس گہری نیندوں میں سوئے پہاڑوں کی گم چوٹیوں تک، زماں دیدہ بوڑھے درختوں کی بے برگ شاخوں میں، ٹھنڈی ہوا چلتے چلتے ٹھہر سی گئی ہے ابھی تک یہ دل رات دیکھے ہوئے خواب ِ بد کے سبب سہما سہما سا ہے آج بھی میں نے […]


