غزل : سعید اشعر
نظر کے سامنے کچھ دائرے تھے ہمارے لوگ ان میں ناچتے تھے محبت کے سفر میں آسماں پر ستارے مسکرانے لگ گئے تھے جزیرہ ڈوبتا دیکھا سبھی نے سمندر کے کنارے بھیگتے تھے کمانیں سب کے ہاتھوں میں تنی تھیں نشانے پر چمکتے آئنے تھے نجانے کس لیے خاموش ہے تُو تری باتوں میں کتنے […]








