افسانہ

نیرمسعودکے افسانے”دھول بن” کی وجودیاتی تعبیر : محمدعامرسہیل

اردو افسانہ اپنے آغاز (بیسوی صدی کی ابتدا) سے اب تک مختلف تحریکوں، رجحانات، میلانات، ہئیتوں اور اسالیب کے زیر رہا ہے۔ بیسوی صدی مختلف ادبی و فلسفیانہ تحریکوں اور افکار کی صدی ہے۔ ادب نے نہ صرف ادبی تحریکوں کے اثرات قبول کیے بلکہ فلسفیا نہ اور دیگر رجحانات کو بھی جلد اپنے اندر […]

نظم

ایک نوحہ : یوسف خالد

بساطِ ارض پر فطرت کی بو قلمونیاں جلوہ فگن ہیں کہیں جنگل ،کہیں صحرا ،کہیں بیلے کہیں منہ زور دریا ہیں کہیں گہرے سمندر ہیں کہیں کہسار ہیں جن کے بطن سے پھوٹتے چشمے ہیں سندر گنگناتی آبشاریں ہیں کہیں شفاف ندیاں وادیوں میں کھلتے پھولوں ،ننھی کلیوں میں نمو تقسیم کرنے کی ریاضت میں […]

افسانہ

سایا : ع ۔ع ۔ عالم

بارش ہر چند خوش بختی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے مگر ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی ہر کسی کے لیے بارش نعمت کے روپ میں ہی وارد ہو۔ ممکن ہے کہ بارش عذاب ہو۔ اس بات کی تصدیق اس کسان سے پوچھیے جس کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہو اور یہ نعمت […]

افسانہ

کمک : اذلان شاہ

’’پہچانا۔۔۔۔۔۔؟؟‘‘ وہ اچانک کہیں سے نمودار ہوا اوراس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس کو اس کا اس طرح اچانک آنا اور پوچھنا بالکل بھی اچھا نہیں لگا لیکن پھر بھی اس نے ایک بار غور سے دیکھ کر اُسے پہچاننے کی کوشش ضرور کی ۔وہ کسی طرح بھی اُس کی پہچان میں […]

تراجم

’’فن بطور تکنیک‘‘ : وکٹر شکلو وسکی…اُردو ترجمہ:ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

’’فن پیکروں(Images)میں سوچنے کا عمل ہے۔‘‘شاعری بھی اسی طرح پیکروں میں سو چتی ہے جسے عمومی طور پر ’’ذہنی کوشش کے بھر پور استفادہ‘‘ (Economy of Mental Effort)کااندازقرار دیا جا سکتاہے۔انداز جو ’’(تخلیقی) عمل کی اضافی آسانی کا احساس‘‘دلاتا ہے۔پیکر تراشی کے بغیر کوئی فن موجود نہیں۔’’فن پیکروں میں سوچنے کا عمل ہے‘‘یہ مسلمہ اصول […]

افسانہ

مہر بی بی : فریدہ غلام محمد

ارے اب شروع ھو جائے گا اس کا ڈرامہ ۔تانی نے جنت کو کہنی ماری ۔”اچھا تو یہ خاتون ھے جس کا حال سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں آخر ھے کیا چیز یہ ؟‘‘ اس نے مہر بی بی کو غور سے دیکھا۔وہ ہر گھر کی گھنٹی بجاتی اور کچھ روپے لیتی […]

غزل

میں پھول بناتا ہوں میں غنچے گھڑتا ہوں : اقتدارجاوید

خود آدھا گھٹتا ہوں خود آدھا پڑتا ہوں میں پھول بناتا ہوں میں غنچے گھڑتا ہوں یونہی تو نہیں ہوتی تجسیم اک آنسو کی میں روز اجڑتا ہوں میں روز ادھڑتا ہوں شاخوں پر پتّے ہیں پتوں پر زنجیریں آٸینوں کے اوپر بھی میں ہیرے جڑتا ہوں سُر پورا ہو کر حلق سے باہر آتا […]

خاکہ

استاذی ڈاکٹر شبیر احمد قادری : ڈاکٹر اصغر علی بلوچ

یادش بخیر میں نے گورنمنٹ کالج جڑانوالہ میں داخلہ لیا تو مرنجاں مرنج شخصیت کے حامل پروفیسر عبد المجید عابد ‘ معروف نقاد اور محقق ڈاکٹر رشید احمد گوریجہ ‘ پروفیسر صادق حسین اور پروفیسر بابا فاضل ناصر جیسے ہر دلعزیز اساتذہ سے اردو پڑھنے کا موقع ملا ۔ دوسرے سال کے وسط میں ایک […]

تنقید

ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۱۳)

تغافل  دوست  ہوں میرا  دماغِ عجز عالی ہے اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے  (غالبؔ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند حضور، اب کیا کہوں میں آپ کے اس ’’عجز‘‘ کے حق میں کہ ’’فارس‘‘ کی زباں میں آپ نے کچھ یوں کہا بھی تھا ’’د ر آغوشِ تغافل عرض یک رنگی تواں […]

افسانہ

محبت جاودانی ھے : فریدہ غلام محمد

گرمی کی دوپہریں بہت طویل ھوتی ہیں ۔۔۔۔۔مگر میرے صبح،دوپہراور شام سب ایک سے ھوتے تھے ۔صبح زیادہ حسین ۔”جانتی ہیں بی جان کیوں؟ بی جان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔اس میں مجھے ناشتے کے دوران بابا سے باتیں کرنے کا موقع ملتا تھا ۔پتہ ھے وہ کتنے ڈیشنگ تھے ،کپاس کا رنگ […]