افسانہ

کمک : اذلان شاہ

’’پہچانا۔۔۔۔۔۔؟؟‘‘ وہ اچانک کہیں سے نمودار ہوا اوراس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس کو اس کا اس طرح اچانک آنا اور پوچھنا بالکل بھی اچھا نہیں لگا لیکن پھر بھی اس نے ایک بار غور سے دیکھ کر اُسے پہچاننے کی کوشش ضرور کی ۔وہ کسی طرح بھی اُس کی پہچان میں […]

تراجم

’’فن بطور تکنیک‘‘ : وکٹر شکلو وسکی…اُردو ترجمہ:ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

’’فن پیکروں(Images)میں سوچنے کا عمل ہے۔‘‘شاعری بھی اسی طرح پیکروں میں سو چتی ہے جسے عمومی طور پر ’’ذہنی کوشش کے بھر پور استفادہ‘‘ (Economy of Mental Effort)کااندازقرار دیا جا سکتاہے۔انداز جو ’’(تخلیقی) عمل کی اضافی آسانی کا احساس‘‘دلاتا ہے۔پیکر تراشی کے بغیر کوئی فن موجود نہیں۔’’فن پیکروں میں سوچنے کا عمل ہے‘‘یہ مسلمہ اصول […]

افسانہ

مہر بی بی : فریدہ غلام محمد

ارے اب شروع ھو جائے گا اس کا ڈرامہ ۔تانی نے جنت کو کہنی ماری ۔”اچھا تو یہ خاتون ھے جس کا حال سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں آخر ھے کیا چیز یہ ؟‘‘ اس نے مہر بی بی کو غور سے دیکھا۔وہ ہر گھر کی گھنٹی بجاتی اور کچھ روپے لیتی […]

غزل

میں پھول بناتا ہوں میں غنچے گھڑتا ہوں : اقتدارجاوید

خود آدھا گھٹتا ہوں خود آدھا پڑتا ہوں میں پھول بناتا ہوں میں غنچے گھڑتا ہوں یونہی تو نہیں ہوتی تجسیم اک آنسو کی میں روز اجڑتا ہوں میں روز ادھڑتا ہوں شاخوں پر پتّے ہیں پتوں پر زنجیریں آٸینوں کے اوپر بھی میں ہیرے جڑتا ہوں سُر پورا ہو کر حلق سے باہر آتا […]

خاکہ

استاذی ڈاکٹر شبیر احمد قادری : ڈاکٹر اصغر علی بلوچ

یادش بخیر میں نے گورنمنٹ کالج جڑانوالہ میں داخلہ لیا تو مرنجاں مرنج شخصیت کے حامل پروفیسر عبد المجید عابد ‘ معروف نقاد اور محقق ڈاکٹر رشید احمد گوریجہ ‘ پروفیسر صادق حسین اور پروفیسر بابا فاضل ناصر جیسے ہر دلعزیز اساتذہ سے اردو پڑھنے کا موقع ملا ۔ دوسرے سال کے وسط میں ایک […]

تنقید

ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۱۳)

تغافل  دوست  ہوں میرا  دماغِ عجز عالی ہے اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے  (غالبؔ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند حضور، اب کیا کہوں میں آپ کے اس ’’عجز‘‘ کے حق میں کہ ’’فارس‘‘ کی زباں میں آپ نے کچھ یوں کہا بھی تھا ’’د ر آغوشِ تغافل عرض یک رنگی تواں […]

افسانہ

محبت جاودانی ھے : فریدہ غلام محمد

گرمی کی دوپہریں بہت طویل ھوتی ہیں ۔۔۔۔۔مگر میرے صبح،دوپہراور شام سب ایک سے ھوتے تھے ۔صبح زیادہ حسین ۔”جانتی ہیں بی جان کیوں؟ بی جان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔اس میں مجھے ناشتے کے دوران بابا سے باتیں کرنے کا موقع ملتا تھا ۔پتہ ھے وہ کتنے ڈیشنگ تھے ،کپاس کا رنگ […]

بک شیلف

حسنین نازش کے تازہ سفرنامے "امریکا میرے آگے” کا جائزہ : ۔ شیخ فرید

حسنین نازش نہایت زیرک ، کہنہ مشق اور علم و ادب پر دسترس رکھنے والا لبرل ، روشن خیال اور جواں سوچ و فکر کا حامل ادیب ، شاعر اور افسانہ نگار ہے ۔ وہ جب بھی کوئٹہ آتا ہے تو مجھ سے ملے بغیر نہیں جاتا ۔ اُس کا یہی دوستانہ پن مجھے اُس […]

تراجم

بوڑھی عورتیں : فاروق سرور

پشتو ادب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر اور ترجمہ فاروق سرور اس بوڑھے کے ابرو بھی سفید ہوتے ہیں۔جبکہ اس کی سفید پگڑی اب بہت میلی ہو چکی ہوتی ہے۔اس کی سرخ آنکھوں سے یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ بہت وقت سے ایک ہی خواب دیکھ رہا ہو،لیکن پھر اس خواب کی ناکامی اور عدم تکمیل […]

غزل

غزل : سعید اشعر

نظر کے سامنے کچھ دائرے تھے ہمارے لوگ ان میں ناچتے تھے محبت کے سفر میں آسماں پر ستارے مسکرانے لگ گئے تھے جزیرہ ڈوبتا دیکھا سبھی نے سمندر کے کنارے بھیگتے تھے کمانیں سب کے ہاتھوں میں تنی تھیں نشانے  پر  چمکتے  آئنے  تھے نجانے کس لیے خاموش ہے تُو تری باتوں میں کتنے […]