سایا : ع ۔ع ۔ عالم
بارش ہر چند خوش بختی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے مگر ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی ہر کسی کے لیے بارش نعمت کے روپ میں ہی وارد ہو۔ ممکن ہے کہ بارش عذاب ہو۔ اس بات کی تصدیق اس کسان سے پوچھیے جس کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہو اور یہ نعمت […]
بارش ہر چند خوش بختی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے مگر ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی ہر کسی کے لیے بارش نعمت کے روپ میں ہی وارد ہو۔ ممکن ہے کہ بارش عذاب ہو۔ اس بات کی تصدیق اس کسان سے پوچھیے جس کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہو اور یہ نعمت […]
’’پہچانا۔۔۔۔۔۔؟؟‘‘ وہ اچانک کہیں سے نمودار ہوا اوراس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس کو اس کا اس طرح اچانک آنا اور پوچھنا بالکل بھی اچھا نہیں لگا لیکن پھر بھی اس نے ایک بار غور سے دیکھ کر اُسے پہچاننے کی کوشش ضرور کی ۔وہ کسی طرح بھی اُس کی پہچان میں […]
’’فن پیکروں(Images)میں سوچنے کا عمل ہے۔‘‘شاعری بھی اسی طرح پیکروں میں سو چتی ہے جسے عمومی طور پر ’’ذہنی کوشش کے بھر پور استفادہ‘‘ (Economy of Mental Effort)کااندازقرار دیا جا سکتاہے۔انداز جو ’’(تخلیقی) عمل کی اضافی آسانی کا احساس‘‘دلاتا ہے۔پیکر تراشی کے بغیر کوئی فن موجود نہیں۔’’فن پیکروں میں سوچنے کا عمل ہے‘‘یہ مسلمہ اصول […]
ارے اب شروع ھو جائے گا اس کا ڈرامہ ۔تانی نے جنت کو کہنی ماری ۔”اچھا تو یہ خاتون ھے جس کا حال سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں آخر ھے کیا چیز یہ ؟‘‘ اس نے مہر بی بی کو غور سے دیکھا۔وہ ہر گھر کی گھنٹی بجاتی اور کچھ روپے لیتی […]
خود آدھا گھٹتا ہوں خود آدھا پڑتا ہوں میں پھول بناتا ہوں میں غنچے گھڑتا ہوں یونہی تو نہیں ہوتی تجسیم اک آنسو کی میں روز اجڑتا ہوں میں روز ادھڑتا ہوں شاخوں پر پتّے ہیں پتوں پر زنجیریں آٸینوں کے اوپر بھی میں ہیرے جڑتا ہوں سُر پورا ہو کر حلق سے باہر آتا […]
یادش بخیر میں نے گورنمنٹ کالج جڑانوالہ میں داخلہ لیا تو مرنجاں مرنج شخصیت کے حامل پروفیسر عبد المجید عابد ‘ معروف نقاد اور محقق ڈاکٹر رشید احمد گوریجہ ‘ پروفیسر صادق حسین اور پروفیسر بابا فاضل ناصر جیسے ہر دلعزیز اساتذہ سے اردو پڑھنے کا موقع ملا ۔ دوسرے سال کے وسط میں ایک […]
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے (غالبؔ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند حضور، اب کیا کہوں میں آپ کے اس ’’عجز‘‘ کے حق میں کہ ’’فارس‘‘ کی زباں میں آپ نے کچھ یوں کہا بھی تھا ’’د ر آغوشِ تغافل عرض یک رنگی تواں […]
گرمی کی دوپہریں بہت طویل ھوتی ہیں ۔۔۔۔۔مگر میرے صبح،دوپہراور شام سب ایک سے ھوتے تھے ۔صبح زیادہ حسین ۔”جانتی ہیں بی جان کیوں؟ بی جان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔اس میں مجھے ناشتے کے دوران بابا سے باتیں کرنے کا موقع ملتا تھا ۔پتہ ھے وہ کتنے ڈیشنگ تھے ،کپاس کا رنگ […]
حسنین نازش نہایت زیرک ، کہنہ مشق اور علم و ادب پر دسترس رکھنے والا لبرل ، روشن خیال اور جواں سوچ و فکر کا حامل ادیب ، شاعر اور افسانہ نگار ہے ۔ وہ جب بھی کوئٹہ آتا ہے تو مجھ سے ملے بغیر نہیں جاتا ۔ اُس کا یہی دوستانہ پن مجھے اُس […]
پشتو ادب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر اور ترجمہ فاروق سرور اس بوڑھے کے ابرو بھی سفید ہوتے ہیں۔جبکہ اس کی سفید پگڑی اب بہت میلی ہو چکی ہوتی ہے۔اس کی سرخ آنکھوں سے یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ بہت وقت سے ایک ہی خواب دیکھ رہا ہو،لیکن پھر اس خواب کی ناکامی اور عدم تکمیل […]