خاکہ

ایک درویش صفت استاد : ڈاکٹر عبدالعزیزملک

کائنات کی وسعتوں،بھیدوں اورنا قابلِ تفہیم مظاہر پہ غور کریں توکچھ سمجھ میں آئے نہ آئے ،یہ با ت طے ہے کہ تغیر وتبدل حقیقی ہے اور اس سے فرار ناممکن ہے۔ تغیر و تبدل کی انتہا یہ ہے کہ جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی لوٹانہیں،زمان ومکاں کا یہ ہیر پھیر، ازل سے جاری […]

اسلاميات

 محبتِ الٰہی : قرۃ العین جاوید

  کیا اللّہ مجھ سے محبت کرتا ہے؟ یہ سوال اکثر میرے زہن میں گردش کرتا۔۔۔پھر ایک دن مجھے خیال آیا کہ میرا رب جن بندوں کو زیادہ چاہتا ہے۔ ان کے بارے میں تو اس نے آئتیں اتاری ہیں سو میں قرآن مجید کھول کر بیٹھ گئی۔ میں نے ڈھونڈا تو پہلی آیت ملی […]

تراجم

خلیل جبران کی مشہورنظم ’’سیلف نالج‘‘ کااردوترجمہ : سلمیٰ جیلانی

خلیل جبران کی نظم سیلف نالج (خود شناسی )۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ : سلمیٰ جیلانی کسی نے سوال کیا ، خود شناسی کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا تمہارے دل اپنی خاموشی میں دنوں اور راتوں میں چھپے رازوں سے بخوبی آگاہ ہیں پھر بھی تمہیں اپنے دل کی اس آگاہی کی آواز کو اپنے کانوں […]

نظم

تیرا راستہ : فیض محمد صاحب

پیشن گوٸی ہے کل بارش کی سوچ رہا ہوں جب پہلی بارش ہوٸی ساون کی تمہیں میری اُلفت کے وہ دن یاد تو آٸیں گے جاناں کہ جب پہلی بار دل اُلفت سے دھڑکا تھا اور پھر اسی ساون میں بچھڑ کے خوب روۓ تھے پہلی بار خیر اب تو ہجر کی عادت ہے پر […]

نظم

نذار قبانی کی مشہور نظم ’’ایک ساحلی نظم‘‘ کااردو ترجمہ : اقتدار جاوید

(شام کے معروف شاعرنذار قبانی کی مشہور نظم ’’ایک ساحلی نظم‘‘ ) تری نیلی آنکھوں کے صاف اور شفّاف ساحل سے اڑتی ھے گیلی ہوا روشنی گنگناتی ھے لے جاتا ھے آفتاب اپنی ناو اندھے عدم کی طرف (گیت گاتے ) تری نیلی آنکھوں کے صاف اور شفّاف ساحل پہ کھلتی ھے گہرے سممندر کی […]

غزل

غزل : بشیراحمد قا د ر ی

ترے ہجر میں مرا حالِ دل ‘ کبھی کیا ہوا ، کبھی کیا ہوا کبھی مضطرب، کبھی مضمحل،کبھی کیا ہوا ،کبھی کیا ہوا کبھی آنکھ سے غم دل رواں ،کبھی سینہ درد سے تھا تپاں رہا ہاتھ سینے سے متصل ، کبھی کیا ہوا ، کبھی کیا ہوا کبھی درد میں بڑا جوش تھا،کبھی سکتہ […]

خاکہ

ابا جی : رمشاء ساجد

یہاں ابا جی سے مراد میرے ’’دادا ابو‘‘ ہیں جن میں شفقت،محبت اور خلوص کوٹ کوٹ کر بھرے تھے ابا جی کا نام رانا حاجی عبدالغفار تھا ۔ہم دادا ابو کو ابا جی اس لئے کہتے تھے کیوں کہ میرے والد صاحب اور ان کے تمام بھائی ان کو ابا جی کہہ کر بات کیاکرتے […]

افسانہ

چادر : فریدہ غلام محمد

وہ کھانا لگا ہی رہی تھیں جب گیٹ کی گھنٹی بجی۔ ’’یہ ھو نہ ھو سسی ھے توبہ زرا جو صبر کر جائے‘‘ ۔رمضان بھی چھٹی پر تھا ورنہ یہ نوبت ہی نہیں آتی ۔۔۔ولید سویا ھوا تھا ۔۔۔۔۔۔ بڑبڑاتے ھوئے انھوں نے گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھولا ۔وہ سرخ چہرے کے ساتھ اندر داخل […]

نظم

غاروں کی طرف لوٹنے کے دن : ڈاکٹر اسحاق وردگ

سماج نے حیوانی جبلتیں پہن لی ہیں تہذیب کا نظام اخلاق ان بوڑھوں کی نصحیتوں میں پناہ لے چکا ہے جو اپنے شباب میں بے بس لڑکیوں کے جسم کو دفتری سٹیشنری سمجھتے تھے جسے بے دریغ استعمال کرنے کے بعد وقت کی ردی کی ٹوکڑی میں پھینک دیا جاتا ہے تاکہ آنے والی نئی […]

نظم

اپنی محبت چاہیے : فیض محمد صاحب

کیا وقت لوٹ نہیں سکتا کچھ زخم بھرنے ہیں کہ جن کے رسنےسے اب جینا وبال جاں ہے تمہیں وہ خواب لوٹانے ہیں کہ جو اب حشرتک ادھورے ہی رہیں گے اور ویسے بھی اب یہ ادھورےخواب میری آنکھوں پہ بوجھ ہیں بھلا کوٸی بھی بوجھ کب تک اُٹھایا جا سکتا ہے سنو !!! تمہیں […]