نظم

کبھی اُس سے پُوچھنا ہے : محمدجاویدانور

  • اکتوبر 8, 2019
  • 0 Comments

محمدجاویدانور کبھی اُس سے پُوچھنا ھے کہ بتا بھلا تُو کیا ھے کسی چاندنی کی چادر کسی گُل کی دھیمی خُوشبُو کسی حُور کا تبسم کسی موج کی روانی کسی پیار کی نشانی کسی ھاتھ کی بُناوٹ کسی قہقہے کی مستی کسی آنکھ کی شرارت کسی شام کا دُھندھلکا کسی صُبح کی تراوت کسی سارباں […]

افسانہ

خسارا۔۔۔ افسانہ : نادیہ عنبر لودھی 

  • اکتوبر 8, 2019
  • 0 Comments

نادیہ عنبر لودھی وہ تصویر سوشل میڈیا کی توسط سے اس تک پہنچی تھی – ماتھے پر بندیا گلے میں منگل سوتر ،مانگ  میں سیندور ،تن پر ساڑھی اور پہلو میں کالا بھجنگ ہندو شوہر – وہ حیران رہ گئی – سیما کا نیا  شادی شدہ حلیہ اس کے لیے کسی شاک سے  کم نہ تھا -دوسری تصویر میں سیما کی ماں بال سنہری کیے ساڑھی اوڑھے ماتھے پر بندیا اور سیندور سجاۓ ایسے مسکرا رہی تھی جیسے کوئی قلعہ فتح کرلیا ہو – ماں بیٹیوں نے شاید کئی سوسال بعد سومنات کا مندر دوبارہ  فتح کرلیا تھا – یا ایک ہندو کا دل فتح کرکےایسا کارنامہ انجام دیا تھا جو ان کے نذدیک قابل فخر تھا جس کی تشہیر ان کے نذدیک لازمی تھی –  اپنا ایمان ایک مشرک پر  لٹا کر بھی انہیں نہ کوئی شرمساری تھی نہ پشیمانی – ہم بے عمل مسلمانوں کے پاس ایک تو متاع ِحیات ہے کلمہ کی دولت – یہ بھی لٹا بیٹھیں گے تو باقی کیا رہ جاۓ گا – اس نے تاسف سے سوچا – دنیا کی ہوس انسان کو اس حال تک پہنچا دیتی ہے – کہ ہاتھ سے ایمان بھی چلا جاتا ہے – اس کا ذہن کئی سال پیچھے چلا گیا اسے معصوم سی سیما یاد آئی – خوب صورت معصوم گڑیا- سیما اس کی سسرالی رشتہ دار تھی – جب بیس سال پہلے وہ بیاہ کے سسرال آئی تھی تویہ بچی آٹھ سال کی تھی – کچھ عرصہ بعد سیما اپنے والدین کے ساتھ امریکہ چلی گئی – اس کے ماں باپ آزاد خیال تو پہلے ہی تھے – دیارِ غیر نے ان کی سوچ کو مذید مادرپدر آزادی کا تصور دیا وہ شراب اور سور  کو کھانے میں کوئی  جھجک محسوس نہ کرتے بلکہ فخر کرتے کہ وہ ماڈرن ہیں – سیما کی والدہ بال رنگوا کے فرنگیوں جیسا حلیہ بنا کے بہت خوش ہوتیں – اپنے دین ، تشخص اور قومیت سے انہیں نفرت تھی – وہ خود کو مسلمان کہلانے میں شرم محسوس کرتیں۔ جس کا نتیجہ آج ہندو داماد کی شکل میں نظر آرہا تھا – سیما کا خاندان اعلی نسب تھا – شریف اور دیندار – ان دین داروں کی نسل ہندو ہوگی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا – رنج اور افسوس سے اس کا دل بہت برا ہوا لیکن وہ  کیا کرسکتی تھی – دیار ِغیر میں بسنے والے ان پاکستانیوں پر اولاد کے معاملے میں دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نا صرف اپنے دین سے جوڑ کے رکھیں  بلکہ اس معاشرے کے ساتھ بھی چلنے کے قابل بھی بنائیں  – جو مسلمان خاندان اس بات کو اہمیت نہیں  دیتے تھے جنہوں نے بچوں کو شریک حیات کے چناؤ میں آزادی دے رکھی تھی ان کی تیسری چوتھی نسل اپنا دین اور تشخص بھول چکی تھی – نہ وہ مسلمان تھے نہ انکا کوئی دین تھا نہ وطن – وہ صرف پیسہ کمانے کی مشین تھے – اور حیوانوں کی طرح آزادی ِارادہ کے دلداہ – چند دن بعد اس کے ذہن سے سیما محو ہوگئی اور وہ اپنے معمولات میں مشغول ہوگئی کہ سال بعد پھر ایک تصویر اس تک پہنچی اس دفعہ اس تصویر کو ووٹ ایپس پر ایک رشتہ دار خاتون نے اسے بھیجا  تھا – سیما اسکا شوہر اور سیما کی گود میں کالا کلوٹا بچہ – اسے یوں لگا جیسے بچہ اسے منہ چڑا رہا ہے – بچے تو معصوم ہوتے ہیں اس نے اپنی سوچ کو جھٹکا -جیسی ماں باپ تربیت کرتے ہیں ویسے بن جاتے ہیں تو پھر سیما کے بچے تو ہندو ہی بنیں گے – دل نے صدا لگائی اور دماغ نے تائید کی – —- نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد

افسانہ خیال نامہ

چابی ۔۔۔ افسانہ : محمدجمیل اختر

  • اکتوبر 8, 2019
  • 0 Comments

 محمدجمیل اختر سب کچھ اُس کے منصوبے کے مطابق ہوا تھاسوائے ایک بات کے ، شاید یہ بات اُس کے ذہن میں کبھی بھی نہ آتی لیکن اُس کی بیوی نے اُس صبح اُس کی توجہ اِس جانب مبذول کرائی تھی اور تب سے وہ بے حد پریشان تھا، اتنی پریشانی تواُسے کل رات اُس […]

نظم

غزل: باقر شاہ۔۔۔ منظوم اردو ترجمہ:ڈاکٹر اسحاق وردگ

  • اکتوبر 8, 2019
  • 0 Comments

ڈاکٹر اسحاق وردگ اے مرے دوست! محبت سے ڈر گیا ہوں میں کہ اس چٹان سے پہلے بھی گر چکا ہوں میں مری صدا کسی دل پر اثر نہیں کرتی مجھے یقین ہے تصویر بن چکا ہوں میں حسین پاوءں کی پازیب تھا مگر افسوس کہ اب زمین پہ بچے کو مل گیا ہوں میں […]

نظم

نوید ملک کی ایک خوب صورت نظم

  • اکتوبر 7, 2019
  • 0 Comments

نوید ملک مری رومانوی نظمو! خدا حافظ (آر جے نورین کی خوبصورت آواز کے ساتھ) خدا حافظ مری نظمو! مری بے تاب نظمو! مری رومانوی نظمو خدا حافظ! اور اب تم ان ہواوں میں بکھیرو نغمگی اپنی جہاں کھلِتے ہیں تارے، روشنی دل میں مہکتی ہے جہاں تتلی مقدس سلسلے کے در پہ جا کر […]

نظم

پردیسی کی پریت : اخترشیرانی

  • اکتوبر 7, 2019
  • 0 Comments

اخترشیرانی پردیسی کی پریت ہے جُھوٹی جُھوٹی پردیسی کی پریت! ہارے ہوئے کی جیت ہے جھوٹی دُنیا کی یہ ریت ہے جھوٹی! پردیسی کی پریت ہے جُھوٹی جُھوٹی پردیسی کی پریت! پردیسی سے دل کا لگانا بہتے پانی میں ہے نہانا کوئی نہیں ندّی کا ٹھکانہ رمتے جوگی کِس کے میت پردیسی کی پریت ہے […]

کالم

بخیہ ادھیڑ… کالم : سعید اشعر

  • اکتوبر 7, 2019
  • 0 Comments

سعید اشعر  چونکہ ہم ایک روایت پسند معاشرے کا حصہ ہیں اس لیے بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی ہم اپنے آپ کو ایک ایسے حصار کے اندر بند رکھنا چاہتے ہیں جس کے بارے میں ہمارے پاس چند جذباتی جملوں کے علاوہ کوئی دلیل موجود نہیں ہوتی۔ ہم فقرے بازی، اختیار، اظہار کے مواقع، […]

سلسہ جات

کُچھ کھٹی میٹھی یادیں(47)

  • اکتوبر 7, 2019
  • 0 Comments

نیلما ناہید درانی میرے استاد ۔۔۔ میرے راہنما لوگ کہتے ہیں محبت زندگی میں ایک بار ھوتی ہے۔۔۔۔لیکن میرا خیال ہے کہ ہم محبت میں بار بار مبتلا ہوتے ھیں۔۔۔اور ھر محبت میں اتنی ھی شدت اور سچائئ ھوتی ہے۔۔۔۔یہ الگ بات ھے کہ ھر محبت کا دورانیہ مختلف ھوتا ہےاور جس سے محبت ھو […]

نظم

دہر آباد : اقتدار جاوید

  • اکتوبر 6, 2019
  • 0 Comments

اقتدار جاوید پیچ کھاتے پُلوں جگمگاتی گزرگاہوں شاہراٶں کے درمیاں راکھ کا ڈھیر ہے راکھ کے ڈھیر پر شہر آباد ہے قہرِ اوہام میں کارخانہِ وہم و گماں ہے دمادم رواں لا کے افسون میں کِرم خوردہ تمناٶں کا دہر آباد ہے راستہ بُھولے سیّاح سیاّحوں کی ان کہی داستاں پابہ زنجیر بوڑھے غلاموں کے […]