اک تنہا ویک اینڈ : حامد یزدانی
حامد یزدانی سنٹرل پارک میں، آوارہ سا جانے! کون صدی کا چاند ایمپائر اسٹیٹ سے ڈھلتی زینہ زینہ دھند کی سرگوشی گھورتی سڑکوں سے چھپتی بروکلین میں آنکھیں کھولتی ہے چمنیاں تاریکی جنتی ہیں یا پھر بادل ! آزادی کے بُت کو شرماتی قبرستان کی ترچھی روشنی تہ در تہ یہ سیدھی قبریں بوڑھے دنوں […]




