غزل : ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند وہ مرکزہ تھا کہ شاید سبب تھا اےآنند کہ اختتام بھی جس کاغضب تھا اے آنند جنم جنم سے ترا ایک ہی مقدر ہے تو ایک موتی درون ِ صدف تھا اے آنند وہ رنگ اب بھی مرے دل میں خون روتا ہے وہ رنگ جو کبھی تزئین ِ لب تھا اے […]
ستیہ پال آنند وہ مرکزہ تھا کہ شاید سبب تھا اےآنند کہ اختتام بھی جس کاغضب تھا اے آنند جنم جنم سے ترا ایک ہی مقدر ہے تو ایک موتی درون ِ صدف تھا اے آنند وہ رنگ اب بھی مرے دل میں خون روتا ہے وہ رنگ جو کبھی تزئین ِ لب تھا اے […]
بشکریہ جناب صداقت بلوچ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ سورة التوبة، آیت 101 وَ مِمَّنۡ حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕ ۛ وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ ۟ ۛ ؔ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟ لَا تَعۡلَمُہُمۡ ؕ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾ۚ اور تمہارے ارد گرد جو دیہاتی ہیں ، ان میں […]
راز احتشام تنہا سفر ہو، رات ہو، بجلی کڑک اٹھے جنگل میں کوئی آگ اچانک بھڑک اٹھے چپ چاپ سرسراتی ہوئی جا رہی تھی رات آہٹ ہوئی گلی میں تو سینے دھڑک اٹھے اک فتح کا غبار تھا چہروں پہ اور ہم مقتل پہ ایک رنگِ ہزیمت چھڑک اٹھے آباد ہو رہا ہے جہانِ خرد […]
اقتدار جاوید یہ باغوں اور درسگاہوں کا شہر اب زبوں حالی کا شکار ہے۔کبھی سڑکیں کشادہ صاف اور ہوادار ہوا کرتی تھیں۔شہر اور شہروں کی خاص وجہِ شہرت یونہی نہیں بن جاتی یہ نصف صدی سے بھی زیادہ کا قصہ ہوتا ہے اور بسا اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں ایک شہر کو ایک خاص نہج […]
رفیق سندیلوی جیسے کُوزے پہ جُھک کر کبھی روشنی کی مُرصّع صراحی نے دو گھونٹ امرت اُنڈیلا نہیں جیسے کُوزہ نہیں جانتا! جیسے کُوزہ نہیں جانتا اِک جَھری نوکِ سوزَن سی پتلی لکیر اُس کے پیندے پہ ہے کیسے محفوظ رکھّے گا پانی جو اندھے کنووں سے ہَوا کھانستی ٹُونٹیوں بے نُمو گھاٹیوں سے چٹانوں […]
یونس مجاز رحمان کے مہمان صاحبو ! گزشتہ کالم میں مناسک حچ کے پانچ دنوں پر بات کی تھی آچ اس پر تفصیلی تجربات و مشائدات پر بات ہو گی ۔7 ذوالحج کی شام آچانک کہا گیا کہ کھانے کے بعد احرام باندھ کر منی’ کے لئے تیار ہو جائیں۔تین گاڑیاں آ چکی ہیں یہ […]
محمدجمیل اختر یوں تو وہ اچھا تھا لیکن اُس کے چہرے پہ دائیں جانب ایک سیاہ داغ تھا بالکل سیاہ جیسے کسی نے کالے پینٹ سے ایک دائرہ بنا دیا ہو۔ بچپن میں وہ اس داغ پر ہاتھ رکھ کر بات کرتا تھا تاکہ کسی کو اُس کا داغ نہ دکھائی دے لیکن معلوم نہیں […]
حامد یزدانی سنٹرل پارک میں، آوارہ سا جانے! کون صدی کا چاند ایمپائر اسٹیٹ سے ڈھلتی زینہ زینہ دھند کی سرگوشی گھورتی سڑکوں سے چھپتی بروکلین میں آنکھیں کھولتی ہے چمنیاں تاریکی جنتی ہیں یا پھر بادل ! آزادی کے بُت کو شرماتی قبرستان کی ترچھی روشنی تہ در تہ یہ سیدھی قبریں بوڑھے دنوں […]
محمد جاوید انور کہا اس نے کہ آؤ پیار کی نگری میں چلتے ہیں گریزاں تھا مگر اس پر کشش اخلاص کی بو باس میں بستے سنہری خواہشوں سے خوشنما اور خواب سے رنگیں ، سرور آگیں بلاوے کے حسیں چنگل میں پھنس بیٹھا بڑی مجبوریوں اور نارسائیوں کے سرابوں میں نکل آیا تو پایا […]
شازیہ مفتی کوئی تصویر بھی نہیں باقی جن میں ہم ساتھ ساتھ ہوتے تھے سارے لمحے بھی ہوگئے ماضی جن میں ہم ساتھ ساتھ ہنستے تھے وہ گھروندے کبھی کے خواب ہوئے جن کے ہم سپنے مل کے دیکھتے تھے اب نہ باقی ہیں پیڑ آم کے وہ جن پہ ساون کے جھولے جھولتے تھے […]