ديگر

گفتگو : ناصرمحموداعوان

آج صبح صبح مارکیٹ جانا تھا۔ سوچا راستے میں بزرگوار سے بھی ملتے جائیں۔ پارک کے گوشے میں بزرگوار اور وڑائچ صاحب کی صحبت گرم تھی۔ علیک سلیک کے بعد میں بھی شریک محفل ہوگیا۔ بزرگوار اور وڑائچ صاحب بات چیت کرتے رہے۔ میں خاموش سامع بنا رہا یا محض "ہوں ہاں” سے گفتگو میں […]

افسانہ

بد دا بیِج : رابعہ سلیم

بوا لاگ لینے کے چکرمیں ویہڑے میں شٹاپو کھیل رہی تھی ۔ ” کیسی چاند سی دلہن ڈھونڈھی ہے میں نے۔اُچی لمی، اب مانتی ہو نا،” بوا اٹھلا کر چار چوفیرے بیٹھی عورتوں سے بولی۔ "سویرے کھراچڑھائی کے لیےآجاؤں گی ۔پہلا غسل برکتاں والا ہوتا ہے ۔اوراگرجی متلائے تو بتا دینا۔پھیرے رکھوں گی۔” رشیدہ کی […]

نظم

شکایت : یوسف خالد

اسے مجھ سے شکایت ہے کہ میں حد سے زیاد حسن کی تعریف کرتا ہوں مجھے کوئی بتائے میں کسی بھیدوں بھرے، خوش رنگ، خوشبو بانٹتے اک نرم و نازک پھول کو گر خوبصورت پھول کہتا ہوں تو اس میں کیا برائی ہے مجھے رنگوں سے خوشبو سے محبت ہے تو اس میں حرج ہی […]

غزل

غزل : اعظم شاہد

کبھی مقتل کومیں سوچوں کبھی زنداں دیکھوں جانے والے کے لئے خود کو پریشاں دیکھوں   زخم تو زخم ہے بڑھتا ہی چلا جائے گا کاش ہاتھوں میں ترے آج نمکداں دیکھوں   پیچھے دیکھوں تو فقط تُو ہی نظر آتا ہے اپنے آگے تو میں تنہائی کا میداں دیکھوں   مجھے معلوم ہے تُو […]

کالم

ماں جی : اقتدارجاوید

ہماری منزل ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ کے نزدیک ایک گاؤں تھا، جہاں سنا تھا کہ ایک سیانا رہتا ہے۔ یہ جو گاؤں میں سیانے مشہور ہوتے ہیں وہ کثیر الجہات شخصیت ہوتے ہیں۔ وہ مفتی بھی ہو سکتے ہیں اور عالم بھی کہ لوگ ان سے کوئی شرعی یا فقہی مسئلہ پوچھ سکتے […]

غزل

غزل : سیدکامی شاہ

جو مجھ پہ چھائی ہوئی کاسنی اُداسی ہے مِرے  عزیز ، مِری  دائمی  اُداسی   ہے نیا ہے کون بھلا اِس خراب خانے میں وہی ہے دِل، وہی دنیا، وہی اُداسی ہے عجیب دل ہے یہ بے کیف حالتوں کا اسیر کبھی ہے رنج یہاں اور کبھی اُداسی ہے خوداپنے ساتھ بھی رہنامحال تھاجس وقت یہ […]

نظم

"نظم” : فیض محمد صاحب

سنو تمہیں اک نظم سنانی ہے کہ جس کا حرف حرف میں نے اپنی دھڑکنوں سے چُنا ہے سُنو تمہیں اپنی آنکھیں دکھانی ہیں کہ جن میں صرف تمہارے خواب بستے ہیں سُنو تمہیں خیالوں میں اتارنا ہے جہاں صرف تم رہتے ہو سُنو تمہیں دھڑکنوں سے ملانا ہے کہ تم چاہت کو محسوس کر […]

غزل

غزل : ناصر علی سید

ایک انہونی کا ڈر ہے   اور میں دشت کا اندھا سفر ہے اور میں حسرتِ تعمیر پوری یوں ہوئی حسرتوں کا اک نگر ہے اور میں بام و در کو نور سے نہلا گیا ایک اڑتی سی خبر ہے اور میں مشغلہ ٹھہرا ہے چہرے دیکھنا اس کے گھر کی رہگزر ہے اور میں جب […]

تحقیق

اساتذہء اردو میں مطالعے کا رجحان : مجاہد حسین

(نوٹ : یہ سروے رپورٹ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر صاحب کی زیرِ نگرانی تکمیل پذیر ہوئی اس میں تمام حقائق مصدقہ ہیں اور باقاعدہ سروے کر کے حاصل کئے گئے ہیں۔ ) دور حاضر میں جب ہم اردو تحقیق کے پیرا ڈایم پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے سامنے تحقیق کے تین پیراڈایم آتے […]

نظم

"گزرتے ہوئے سال کا نوحہ” : نواز انبالوی

سوچا اس سال کے جاتے جاتے سال بھر کے جذبوں اور احساسات کو حریری شال پہناتا چلوں کہ نئے سال کا جب مقدر پھوٹے گا تو پرانے جذبوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے نیا جذبہ ہانکا جائے گا نئی صورتِ احساس جنم لے گی….. …… سوچتا ہوں جاتے جاتے سال بھر کے دکھوں کو اکٹھا […]